
خلیج اردو
یو اے ای کی وزارتِ اعلیٰ تعلیم و سائنسی تحقیق نے اعلیٰ تعلیمی اداروں، تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے اداروں اور ٹریننگ سینٹرز سے متعلق خلاف ورزیوں، جرمانوں اور انتظامی اقدامات کے نئے ضوابط منظور کرلیے۔
نئے ضوابط 12 ستمبر سے نافذ ہوں گے اور وزارت کے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام اداروں کے لیے خلاف ورزیوں اور ریگولیٹری کارروائی کا یکساں فریم ورک فراہم کریں گے۔
نئے نظام کا مقصد اداروں کی ذمہ داریوں اور قانونی تقاضوں کو واضح کرنا، شفافیت اور تعمیل کو بہتر بنانا اور تعلیمی اداروں میں معیار اور گورننس کے اعلیٰ اصولوں کو یقینی بنانا ہے۔
ضوابط میں لائسنسنگ اور ایکریڈیٹیشن، ڈیٹا کی درستگی، مانیٹرنگ اور جائزہ، تعلیمی و امتحانی دیانت داری، عملی تربیت، تعلیمی تشہیر اور ماحولیاتی، صحت و حفاظتی تقاضوں سے متعلق خلاف ورزیاں شامل ہیں۔
خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے مرحلہ وار اور متوازن طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ خلاف ورزی کی نوعیت، سنگینی اور تکرار کو مدنظر رکھتے ہوئے اداروں کو اپنی صورتحال درست کرنے کا موقع دیا جائے گا جبکہ تعلیم کے معیار، تعلیمی دیانت داری یا طلبہ کے حقوق کو متاثر کرنے والی خلاف ورزیوں پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔
نئے ضوابط کے تحت متاثرہ اداروں کو فیصلوں، کارروائیوں، جرمانوں اور انتظامی اقدامات کے خلاف اپیل کا حق بھی حاصل ہوگا۔ اپیلوں کی سماعت کے لیے وزارت کی جانب سے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جائے گی۔
وزارت کے مطابق نئے نظام میں طلبہ اور ٹرینیز کے حقوق کے تحفظ کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ ضرورت پڑنے پر اداروں کو تعلیمی عمل جاری رکھنے، طلبہ کا تعلیمی ریکارڈ محفوظ رکھنے، مالی حقوق کا تحفظ کرنے اور ناجائز وصول کی گئی فیس یا رقم واپس کرنے کے اقدامات کرنا ہوں گے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ نئے ضوابط یو اے ای کے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں شفافیت، گورننس اور معیار کو مزید مضبوط کریں گے جبکہ طلبہ کی تعلیم اور حقوق کو اداروں کے خلاف ریگولیٹری کارروائی سے متاثر ہونے سے بچایا جائے گا۔







