فجیرہ کے سیول کورٹ میں ایک عورت نے 1.1 ملین درہم فراڈ کے الزام میں مرد کو کٹہرے میں لاکھڑا کردیا۔
عدالت کے ریکارڈ کے مطابق متاثرہ عورت نے ملزم کے خلاف فجیرہ پولیس میں شکایت درج کروائی تھی جس نے یہ دعوی کیا تھا کہ اس نے اسے 1۔1 ملین درہم دے کر فجیرہ میں واقع اراضی کا پلاٹ خریدا تھا۔
عورت نے کہا کہ اس سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ ان کی اپنی کمپنی 2000000 درہم میں تین سال کے لئے اس پلاٹ اراضی کو کرایہ پر لے گی۔
خاتون نے مزید بتایا کہ مشتبہ شخص نے کرایہ کی مد میں 40 ہزار درہم کے پانچ چیک لکھے۔
بعد میں دریافت ہوا کہ اس کے پاس زمین کے پلاٹ پر کوئی منصوبہ نہیں تھا جیسا کہ اس نے اسے یقین دلایا تھا۔
عورت نے بتایا کہ بعد میں اس شخص نے زمین پر اپنی ملکیت دوبارہ ظاہر کی اور اس سے کہا کہ اس پلاٹ پر ادا کئے گئے ایک چیک کو بھی کیش نہ کرے جس کی ملکیت اس نے برقرار رکھنے کا دعوی کیا ۔
مقدمہ عدالت میں منتقل کیا گیا جہاں ملزم نے قانونی دستاویزات پیش کرنے سے قبل تمام الزامات سے انکار کردیا۔
عدالت نے کیس کی سماعت سیشن جاری رکھتے ہوئے سماعت کو اگلی پیشی تک ملتوی کرنے کا حکم دے دیا۔
Source: Khaleej Times







