متحدہ عرب امارات کے قانون کے مطابق عام حالات میں اگر آپ کا ویزا کینسل ہو گیا ہے تو اس کے بعد آپ کو 30 دن کا رعایتی وقت دیا جاتا ہے تاکہ آپ اپنا نیا ویزا جاری کرو الیں یا اس دوران ملک چھوڑ دیں۔ بصورت دیگر، 30 دن گزر جانے کے بعد آپ کو ہر دن کے حساب سے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
لیکن گزشتہ کچھ ماہ سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث تقریبا تمام ملکوں نے اپنے بارڈر بند کر دیے تھے اسی لیے فضائی سفر پر بھی پابندی عائد تھی۔ ان ممالک میں متحدہ عرب امارات بھی شامل تھا۔ جس نے اپنے تمام بارڈر بند کردیے اور فضائی سفر پر پابند عائد کردی تھی۔
اس پابندی کے باعث بہت سارے سیاح اور ملازم پیشہ افراد امارات سمیت مخلتف ملکوں میں پھنس گئے تھے۔ متحدہ عرب امارات پھنسے بہت سارے لوگوں کے ویزے کینسل ہوگئے تھے لیکن وہ فصائی سفر پر پاندی کے باعث اپنے ملکوں میں واپس نہیں جا سکتے تھے۔
اب چونکہ فضائی سفر آہستہ آہستہ کھولا جا رہا تو ایسے میں متحدہ عرب قائم بہت سارے ایسے لوگ جن کے ویزے کینسل ہوگئے ہیں وہ اس بات کو لے کر پریشان ہیں کہ کیا اب انکو رعایتی وقت کے بعد تک رہائش اختیار کرنے پر ملک چھوڑتے ہوئے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا؟
ایسا ہی ایک سوال دبئی میں ایک کمپنی کے مالک نے گلف نیوز سے کیا۔ جس کا جواب گلف نیوز نے دبئی میں ویزوں کے متعلق معاملات کو دیکھنے والے ادارے آمر سے بات کی جس کا جواب مندجہ ذیل تھا:
آمر سنٹر کے مطابق خارجہ رہائشی امور کے ڈائریکٹوریٹ جنرل کی ہدایات کے مطابق رہائشی یا ای ویزا کینسل ہونے والوں کو جرمانوں سے چھوٹ نہیں دی گئی۔ اس لیے ایسے لوگ جن کے ویزجات کینسل کر دیے گئے ہیں، ان سے درخواست ہے کہ وہ یا تو ملک چھوڑ دیں یا اپنے ویزے کی مدت میں توسیع کے لیے یا نیا ویزا جاری کروانے کے لیے درخواست دیں۔ آمر سنٹر کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں کو چاہئے کہ وہ براہ راست آمر سنٹر تشریف لائیں اور اپنے ویزوں کی معیاد بارے معلوم کریں۔
ویزا کینسل ہونے اور رعایتی مدت گزر جانے کے بعد کتنا جرمانہ کیا جاتا ہے؟
رعایتی مدت گزر جانے کے بعد پہلے دن 221 درہم جرمانہ لگایا جائے گا اور دوسرے دن سے ہر گزرتے دن کے لیے 25 درہم جرمانہ ہوگا۔
اپنے ویزے کے متعلق معلومات کے لیے آمر سنٹر کے اس نمبر پر رابطہ کریں : 8005111
Source : Gulf News







