
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے اپنی صدارت کے چار برسوں میں ایک منفرد طرزِ قیادت قائم کیا ہے جو خاموش عزم، واضح حکمت عملی اور مستقبل بینی پر مبنی ہے، جبکہ اس کی جڑیں بانیٔ امارات شیخ زاید بن سلطان النہیان کے نظریات میں پیوست ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار اور انور قرقاش ڈپلومیٹک اکیڈمی کے نائب ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد ابراہیم الظاہری کے مطابق شیخ محمد بن زاید کی قیادت روایت سے انحراف نہیں بلکہ اس کی جدید تعبیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی تعمیر، معاشی تنوع، جدید ٹیکنالوجی، سفارتکاری اور انسانی خدمت کے میدانوں میں متحدہ عرب امارات کو ایک قابلِ اعتماد عالمی شراکت دار بنایا گیا۔
ڈاکٹر الظاہری نے بتایا کہ شیخ محمد بن زاید کا عسکری پس منظر ان کی قومی سلامتی کی سوچ میں نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کے مطابق صدر امارات سلامتی کو صرف دفاعی طاقت نہیں بلکہ تیاری، نظم و ضبط، انسانی صلاحیتوں اور طویل المدتی منصوبہ بندی سے جوڑتے ہیں۔ ان کی قیادت میں اماراتی مسلح افواج جدید ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ تربیت اور عملی تیاری پر مبنی مضبوط ادارے میں تبدیل ہوئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شیخ محمد بن زاید طاقت کے استعمال میں توازن اور ذمہ داری پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک عسکری صلاحیتوں کا مقصد کشیدگی بڑھانا نہیں بلکہ خودمختاری، استحکام اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
ڈاکٹر الظاہری کے مطابق بانیٔ امارات شیخ زاید کا بنیادی فلسفہ یہ تھا کہ قوموں کی اصل دولت ان کے عوام ہوتے ہیں، اور شیخ محمد بن زاید اسی وژن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ تعلیم، صحت، خاندانی استحکام، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی صلاحیتوں کی ترقی کو موجودہ قیادت نے قومی پالیسی کا مرکزی حصہ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، پائیدار ترقی اور معاشی تنوع میں سرمایہ کاری دراصل شیخ زاید کے وژن ہی کا تسلسل ہے۔ جدیدیت کو روایتی قومی اقدار سے الگ نہیں سمجھا جارہا بلکہ انہیں ایک دوسرے کی تکمیل قرار دیا جارہا ہے۔
علاقائی بحرانوں سے نمٹنے کے حوالے سے بھی شیخ محمد بن زاید کی حکمت عملی کو دوراندیش، متوازن اور پُرسکون قرار دیا گیا۔ ڈاکٹر الظاہری کے مطابق اماراتی قیادت بحران آنے کے بعد نہیں بلکہ پہلے سے ادارہ جاتی تیاری، مضبوط دفاعی صلاحیت اور عوامی اعتماد کے ذریعے حالات کا مقابلہ کرتی ہے۔
خارجہ پالیسی کے میدان میں متحدہ عرب امارات نے استحکام، مکالمے، اقتصادی تعاون اور خودمختاری کے احترام پر مبنی حکمت عملی اپنائی۔ اسی وجہ سے عالمی سطح پر امارات کو ایک متوازن، قابلِ اعتماد اور ثالثی کردار ادا کرنے والی ریاست کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
ڈاکٹر الظاہری نے کہا کہ شیخ محمد بن زاید، شیخ زاید کے وژن کو ماضی کی یاد کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ قومی منصوبے کے طور پر آگے بڑھا رہے ہیں، جس کا مقصد عوام کو بااختیار بنانا، ان کی فلاح کا تحفظ کرنا اور انہیں مستقبل کی قیادت کے لیے تیار کرنا ہے۔







