متحدہ عرب امارات

عمان کی سڑکوں کا سحر برقرار، متحدہ عرب امارات کے رہائشی ہر موسم میں قدرتی حسن اور مہم جوئی کے لیے عمان کا رخ کرنے لگے

خلیج اردو
عمان متحدہ عرب امارات کے رہائشیوں کے لیے ایک پسندیدہ سیاحتی مقام بن چکا ہے، جہاں ہر موسم، طویل تعطیلات اور اسکول کی چھٹیوں کے دوران ہزاروں افراد سیر و تفریح کے لیے پہنچتے ہیں۔ عمان کے قدرتی مناظر، بلند پہاڑ، سرسبز وادیاں اور مقامی مہمان نوازی سیاحوں کو بار بار اپنی جانب کھینچ لاتی ہے۔

وادی بنی خالد میں تعطیلات کے دوران ایسا منظر دیکھنے کو ملتا ہے جیسے متحدہ عرب امارات کا کوئی محلہ عارضی طور پر عمان منتقل ہو گیا ہو۔ یہاں ابو ظہبی، دبئی اور شارجہ کی نمبر پلیٹوں والی گاڑیاں بڑی تعداد میں نظر آتی ہیں جبکہ خاندان وادی کے شفاف پانی اور قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

سیاحوں کا کہنا ہے کہ عمان کا سفر صرف منزل تک پہنچنے کا نام نہیں بلکہ خود ایک یادگار تجربہ ہے۔ کاروباری شخصیت اور مہم جو سیاح سیمون مسیلی کے مطابق عمان کی سڑکوں پر سفر انسان کو بدل دیتا ہے، جہاں چند لمحوں میں پہاڑی راستوں سے گزر کر دو ہزار تین سو میٹر بلند پہاڑی علاقوں تک پہنچا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق عمان کی کشش کا ایک بڑا سبب اس کے قدرتی مقامات ہیں، جن میں جبل الاخضر، جبل شمس، صلالہ، نزویٰ اور مسندم شامل ہیں۔ گرمیوں میں صلالہ کا خریف سیزن اور جبل الاخضر کا خوشگوار موسم سیاحوں کی خاص توجہ حاصل کرتا ہے۔

وادی شاب، وادی طیوی اور بمہ سنک ہول بھی عمان کے مشہور قدرتی مقامات میں شامل ہیں، جہاں شفاف پانی، چٹانی راستے اور دلکش مناظر سیاحوں کو منفرد تجربہ فراہم کرتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق عمان آنے والے تمام سیاحوں میں 55 فیصد سے زیادہ حصہ متحدہ عرب امارات کے رہائشیوں کا ہے۔ 2024 میں دس لاکھ سے زائد اماراتی شہری عمان گئے، جس سے متحدہ عرب امارات عمانی سیاحت کے لیے سب سے بڑی مارکیٹ بن گیا۔

عمانی مہمان نوازی بھی سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتی ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ مقامی لوگ بغیر کسی غرض کے مدد فراہم کرتے ہیں، جس سے سفر کا تجربہ مزید خوشگوار بن جاتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button