
خلیج اردو
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی سمت بھیجے گئے ڈرونز کو مار گرانے کے بعد ایرانی ساحلی ریڈار اور نگرانی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کے چار ڈرونز کو تباہ کیا گیا، جن کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں بحری آمدورفت کو نشانہ بنانے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ اس کے بعد آبنائے ہرمز پر واقع گورک اور جزیرہ قشم میں نگرانی کے مراکز پر حملے کیے گئے۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے یہ بھی کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرنے والے چار آئل ٹینکروں پر فائرنگ کی۔
رپورٹس کے مطابق کویت میں فضائی دفاعی نظام نے متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنایا، جبکہ بحرین میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس نے دونوں ممالک میں امریکی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا، تاہم امریکی فوج کے مطابق چھ میزائل تباہ کر دیے گئے جبکہ ساتواں اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔
امریکا اور ایران کے درمیان تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے بالواسطہ مذاکرات بھی جاری ہیں، تاہم وقفے وقفے سے ہونے والی جھڑپوں کے باعث کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں ہو سکا۔ ایران تیل کی آمدنی تک رسائی، برآمدات پر پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز سے متعلق بعض شرائط کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے زیادہ تر میزائل اور ڈرون بنانے والے مراکز تباہ کیے جا چکے ہیں، تاہم ایران کے پاس اب بھی اپنے تقریباً 20 فیصد سے زائد میزائل موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت مضبوط اور باوقار ہے، اسی لیے کسی معاہدے تک پہنچنے میں وقت لگ رہا ہے۔
جنگ کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں اور رسد کے نظام پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن اور نقل و حمل کے بڑھتے اخراجات لاکھوں افراد کو غذائی بحران کے قریب دھکیل رہے ہیں۔







