متحدہ عرب امارات

ایران جنگ سے بچنے کیلئے متحدہ عرب امارات نے مخلصانہ کوششیں کیں، انور قرقاش نے سیاسی حل اور مذاکرات کو خطے کے استحکام کیلئے ناگزیر قرار دے دیا

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا ہے کہ ایران جنگ سے بچنے کیلئے متحدہ عرب امارات نے خلوص نیت کے ساتھ کوششیں کیں، جبکہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے سیاسی حل اور مذاکرات ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا کہ دنیا بھر کی نظریں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس کے ایران جنگ اور خلیجی خطے پر ممکنہ اثرات انتہائی اہم سمجھے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ایک مرتبہ پھر اس مؤقف کا اعادہ کرتا ہے کہ مسائل کا حل سیاسی مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے، اور یہی پالیسی مختلف سفارتی رابطوں میں مسلسل اپنائی جارہی ہے۔

انور قرقاش نے کہا، "ہم نے اس جنگ کی خواہش نہیں کی تھی اور اسے روکنے کیلئے مخلصانہ کوششیں کیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی خطے میں عرب اور ایران تعلقات محاذ آرائی یا تنازعات کی بنیاد پر استوار نہیں ہوسکتے کیونکہ خطے کے عوام تاریخی اور جغرافیائی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں مذاکرات ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دونوں رہنما تجارت، تائیوان اور ایران جنگ سمیت اہم علاقائی امور پر گفتگو کررہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ، چین سے ایران جنگ کے خاتمے میں کردار ادا کرنے کی درخواست بھی کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر انور قرقاش نے واضح کیا کہ وطن کا دفاع مقدس ذمہ داری ہے اور متحدہ عرب امارات اپنی خودمختاری کا مکمل تحفظ کرے گا، تاہم ملک کی اولین ترجیح سیاسی حل، امن، استحکام اور خوشحالی ہی رہے گی۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تحمل اور بردباری کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں میں شہری تنصیبات اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، جس پر ایران کو جوابدہ ہونا چاہیے۔

متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور تجارتی سرگرمیوں کو لاحق خطرات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ حکام نے تجارتی جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ایران سے فوری جنگ بندی، حملوں کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

اماراتی حکام کے مطابق ملک کی حکمت عملی دفاع، سفارتکاری، عوامی اطمینان اور تجارتی تسلسل پر مبنی ہے تاکہ خودمختاری کا تحفظ کرتے ہوئے خطے کو مزید کشیدگی سے بچایا جاسکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button