متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کے ڈاکٹرز نے ہنٹا وائرس کو کووِڈ جیسا خطرناک قرار دینے کی تردید کردی، انسانی پھیلاؤ کا خطرہ انتہائی کم قرار

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں صحت کے ماہرین نے ہنٹا وائرس سے متعلق پھیلنے والی تشویش اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ وائرس کووِڈ 19 کی طرح آسانی سے انسان سے انسان میں منتقل نہیں ہوتا۔

ماہرین کے مطابق ہنٹا وائرس زیادہ تر چوہوں اور ان کے متاثرہ ماحول سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، اور عام سماجی میل جول یا روزمرہ کے معمولات کے دوران اس کے پھیلنے کا خطرہ نہایت کم ہے۔

قومی ادارہ برائے ایمرجنسی، بحران اور آفات کی انتظامیہ اور وزارتِ صحت و تحفظ نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں کسی بھی ممکنہ صحتی خطرے سے نمٹنے کیلئے مکمل تیاری موجود ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جارہی ہے۔

طبی ماہر ڈاکٹر سری نواسا راؤ پولومورو کے مطابق ہنٹا وائرس عموماً چوہوں کے پیشاب، فضلے یا تھوک سے آلودہ دھول کے ذریعے پھیلتا ہے، خاص طور پر بند یا غیر ہوادار جگہوں میں اس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وائرس انسانوں میں زیادہ تر ایسے ماحول میں منتقل ہوتا ہے جہاں صفائی نہ ہو یا چوہوں کی موجودگی ہو، جبکہ کھلی جگہوں یا روزمرہ شہری زندگی میں اس کے پھیلنے کا امکان بہت کم ہے۔

ماہر پلمونولوجسٹ ڈاکٹر محمد اسلم کے مطابق انسان سے انسان میں منتقلی انتہائی محدود اور مخصوص اقسام میں دیکھی گئی ہے، جو زیادہ تر جنوبی امریکا کے چند علاقوں تک محدود ہے۔

ڈاکٹروں نے واضح کیا کہ ہنٹا وائرس کووِڈ 19 کی طرح عالمی وبا بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا کیونکہ اس کا پھیلاؤ محدود اور مخصوص ماحولیاتی حالات سے جڑا ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق عام شہریوں کیلئے خطرہ کم ہے، تاہم بند اور غیر استعمال شدہ عمارتوں، گوداموں، کھیتوں یا ایسی جگہوں پر احتیاط ضروری ہے جہاں چوہوں کی موجودگی کا امکان ہو۔

علامات میں بخار، تھکن، جسم درد، سر درد، کپکپی، متلی اور بعض صورتوں میں سانس لینے میں دشواری شامل ہو سکتی ہے، اس لیے مشتبہ علامات کی صورت میں فوری طبی مشورہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ڈاکٹروں نے کہا کہ خوف کی ضرورت نہیں بلکہ صفائی، احتیاط اور آگاہی کے ذریعے اس وائرس سے بچاؤ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button