
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے ڈاکٹروں نے قریبی رشتہ داروں میں شادی کے باعث موروثی بیماریوں کے بڑھتے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے جینیاتی صحت سے متعلق آگاہی اور شادی سے قبل جینیاتی ٹیسٹنگ کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
دبئی میں جینیاتی طب سے متعلق ایک سیشن میں ڈاکٹر مریم الشحی نے بتایا کہ خلیجی خطے میں مشترکہ آبائی پس منظر اور جینیاتی خصوصیات کے باعث موروثی بیماریوں کے حوالے سے جینیاتی تحقیق اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ ان کے مطابق قریبی رشتہ داروں میں شادی کی شرح زیادہ ہونے کے باعث بعض موروثی بیماریوں کا پھیلاؤ بھی زیادہ ہے۔
ڈاکٹر مریم الشحی نے نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دبئی کے لازمی شادی سے قبل جینیاتی اسکریننگ پروگرام کے تحت ٹیسٹ کیے گئے پہلے ایک ہزار جوڑوں میں 8 فیصد ایسے تھے جن میں دونوں افراد ایک ہی بیماری پیدا کرنے والے جینیاتی تغیر کے حامل تھے۔
انہوں نے عمان کی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بچوں میں میٹابولک بیماریوں کے 80 فیصد کیسز میں والدین ایک دوسرے کے قریبی رشتہ دار تھے۔ متحدہ عرب امارات میں جنوری 2025 سے شادی سے قبل جینیاتی ٹیسٹنگ لازمی ہے، جس کے تحت ابوظبی میں 570 سے زیادہ جبکہ دبئی میں 782 جینز کی اسکریننگ کی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق نومولود بچوں کی جینیاتی اسکریننگ سے بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج میں بھی بہتری آئی ہے۔ مئی 2026 کی دبئی میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جینیاتی ٹیسٹ کے نتائج حاصل ہونے میں اوسطاً 3.4 دن لگے، جبکہ جینیاتی بیماری کی تشخیص ہونے والے بچوں میں 47 فیصد کے علاج کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی اور 36 فیصد کو مخصوص ادویات فراہم کی گئیں۔
ڈاکٹروں نے واضح کیا کہ کسی شخص کا جینیاتی تغیر کا حامل ہونا خود بیماری نہیں اور ایسے افراد یا خاندانوں کو کسی منفی لیبل کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ ماہرین نے جینیاتی مشاورت کے لیے تربیت یافتہ ماہرین کی تعداد بڑھانے، عوامی آگاہی مہمات اور جینیاتی اسکریننگ کے نظام میں مزید سرمایہ کاری پر بھی زور دیا ہے۔







