متحدہ عرب امارات

’لانچ کا جنون‘: نئے آئی فون کے لیے دبئی میں گھنٹوں قطاروں میں کھڑے شہری اور سیاح

خلیج اردو
جمعہ کی صبح دبئی بھر میں ایپل اسٹورز کے باہر سیکڑوں افراد قطاروں میں کھڑے نظر آئے۔ کچھ افراد نے اپنی گاڑیوں میں رات گزاری، جبکہ کئی لوگ طلوعِ آفتاب سے پہلے ہی اسٹورز کے باہر پہنچ گئے۔ مقصد ایک ہی تھا، نئے آئی فون 18 کو لانچ کے پہلے ہی روز حاصل کرنا۔

نیا آئی فون آن لائن آرڈر کرکے گھر پر بھی منگوایا جا سکتا ہے، اس کے باوجود سیکڑوں افراد نے خود اسٹور پہنچ کر قطار میں کھڑے ہونے کو ترجیح دی۔ بعض افراد نے تو ڈیوائس جلد حاصل کرنے کے لیے رات اپنی گاڑیوں میں ہی گزاری۔

پاکستانی تارکِ وطن صدف کے لیے نئے آئی فون کی لانچ کے روز خریداری اب خاندانی روایت بن چکی ہے۔ وہ اپنے بھائی کی اہلیہ اور دو سالہ بھانجی کے ہمراہ ایپل اسٹور پہنچیں تاکہ تین آئی فون حاصل کر سکیں۔

صدف کا کہنا تھا کہ وہ کئی برس سے لانچ کے روز آئی فون خرید رہے ہیں، تاہم اب تک یہ معلوم نہیں کر سکے کہ پہلے روز سب سے پہلا سلاٹ کیسے حاصل کیا جائے۔ ان کے مطابق اکتوبر میں ایپل ڈیوائس کی نئی سیریز لانچ ہونے پر وہ اسے بھی خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور شاید اس مرتبہ انہیں پہلا سلاٹ مل جائے۔

یونیورسٹی آف برمنگھم دبئی میں مارکیٹنگ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سارہ پرسی کے مطابق ایپل کے مداحوں کے لیے قطار میں کھڑا ہونا محض زحمت نہیں بلکہ لانچ کے تجربے کا حصہ بن چکا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایپل کے وفادار صارفین کے لیے قطار میں کھڑا ہونا برانڈ سے وابستگی ظاہر کرنے کا ایک طریقہ بن جاتا ہے۔ جدید ترین ماڈل سب سے پہلے حاصل کرنا شناخت، انفرادیت اور کسی خاص گروپ کا حصہ ہونے کے احساس سے جڑی نفسیاتی اہمیت پیدا کرتا ہے۔

دبئی کی رہائشی ہانال اپنے خاندان کے ہمراہ چار نئے آئی فون لینے پہنچیں۔ خاندان کے تمام افراد نے کئی ماہ تک رقم جمع کی تھی تاکہ اپنے اپنے فون کی قیمت ادا کر سکیں۔

ہانال کا کہنا تھا کہ خاندان نے مل کر فون اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا اور جب خریدنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو پہلے روز ہی خرید لینا بہتر ہے، اس سے پہلے کہ ہر شخص کے پاس یہ فون موجود ہو۔ خاندان نے دو برگنڈی، ایک سیاہ اور ایک نیلے رنگ کا آئی فون خریدا۔

ماہرین کے مطابق سب سے پہلے جدید ماڈل رکھنے کی خواہش کو سوشل میڈیا نے مزید بڑھا دیا ہے۔ انفلوئنسرز اور مشہور شخصیات نئے ماڈل کو نمایاں کرکے صارفین میں اس کی طلب اور سماجی اہمیت بڑھاتے ہیں۔

روسی سیاح سیف الاسلام اور آئیوے سلطانہ مولی نے بھی دبئی کے سفر کا وقت آئی فون کی لانچ کے مطابق طے کیا۔ سیف الاسلام کے مطابق روس میں آئی فون درآمد کیا جاتا ہے، اس لیے وہاں مارکیٹ میں دستیاب ہونے میں چند دن لگ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دبئی سے واپس جاتے ہوئے وہ روس میں اس فون کے ابتدائی صارفین میں شامل ہوں گے۔

جوڑے نے جمعہ ہی کو روس واپسی کی پرواز لی۔

’ہیرو کلر‘ کا اثر

ایپل ہر سال اپنے نئے آئی فون کے لیے ایک نمایاں یا ’ہیرو کلر‘ متعارف کراتا ہے۔ گزشتہ سال یہ نارنجی رنگ تھا، جبکہ اس سال برگنڈی رنگ نمایاں کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر سارہ پرسی کے مطابق برگنڈی رنگ وقار اور نفاست سے منسلک ہو سکتا ہے، تاہم اس رنگ کا بنیادی مقصد نئے ماڈل کو نمایاں بنانا ہے۔ ان کے مطابق ایسا نمایاں رنگ جدید ترین آئی فون رکھنے کی فوری اور سماجی طور پر قابل شناخت علامت بن جاتا ہے اور ایک طرح سے اسٹیٹس سمبل کا کردار ادا کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی شخص کے ہاتھ میں برگنڈی رنگ کا آئی فون نظر آئے تو فوراً اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کے پاس جدید ترین ماڈل ہے، اور یہی اس رنگ کے انتخاب کا ایک اہم مقصد ہے۔

ڈاکٹر سارہ پرسی کے مطابق ایپل کی سالانہ مصنوعات کی لانچ ایک سوچے سمجھے برانڈ تجربے میں تبدیل ہو چکی ہے، جس میں صرف فون کی شکل و کارکردگی نہیں بلکہ اسے خریدنے اور استعمال کرنے کا پورا تجربہ بھی صارفین کی جذباتی اور سماجی وابستگی کو متاثر کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button