متحدہ عرب امارات

دبئی پولیس کی K9 یونٹ میں اماراتی خواتین کا اہم کردار، تربیت سے سیکیورٹی مشنز تک ذمہ داریاں

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی کچھ خواتین کے لیے کمیونٹی کا تحفظ ایسے تربیت یافتہ ساتھی کے ساتھ کام کرنے کا نام ہے جو پولیس فورس کے اہم ارکان میں شمار ہوتا ہے، اور وہ ہے K9 یعنی تربیت یافتہ پولیس کتا۔

دبئی پولیس کی K9 یونٹ میں اماراتی خواتین پولیس کتوں کی تربیت اور ہینڈلنگ سمیت مختلف خصوصی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔ خواتین اہلکار بڑے سیکیورٹی آپریشنز میں بھی معاونت کرتی ہیں اور اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ پولیس کتے صحت مند اور مشنز کے لیے ہر وقت تیار رہیں۔

سیکیورٹی انسپیکشن ڈیپارٹمنٹ کی K9 یونٹ میں اسسٹنٹ ٹرینر فرسٹ کارپورل روضہ عبداللہ سالم عبید نے بتایا کہ بڑے ایونٹس سے متعلق ذمہ داریاں ان کے یادگار تجربات میں شامل ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج کی 19ویں کانفرنس COP19 کی سیکیورٹی میں بھی خدمات انجام دیں، جہاں K9 ٹیم نے متحدہ عرب امارات میں ہونے والی ایک بڑی بین الاقوامی کانفرنس کے دوران سیکیورٹی معاونت فراہم کی۔

روضہ عبید کے مطابق ٹیم نے ایونٹ کے دوران سیکیورٹی موجودگی برقرار رکھی اور شرکا کی حفاظت یقینی بنانے میں کردار ادا کیا۔

K9 ٹیم کی خواتین ارکان نے بیرون ملک بھی ذمہ داریاں انجام دی ہیں۔ روضہ عبید خود کسی بیرون ملک مشن کا حصہ نہیں رہیں، تاہم ان کے مطابق ان کی ساتھی خواتین فرانس اور مراکش میں ہونے والے مشنز میں متحدہ عرب امارات کی نمائندگی کر چکی ہیں۔

فرانس میں K9 ٹیم نے بڑے ایونٹس کی سیکیورٹی، مقامات کی حفاظت اور ہجوم کی نگرانی میں معاونت کی، جبکہ مراکش میں خواتین K9 اہلکاروں نے لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ہونے والے مشنز میں حصہ لیا۔

دبئی پولیس کے مطابق مختلف شعبوں میں تربیت یافتہ کتوں نے سیکیورٹی آپریشنز اور تحقیقات میں اہلکاروں کی مدد کرتے ہوئے کامیاب نتائج کے حصول میں بھی کردار ادا کیا ہے۔

مختلف ماحول میں تربیت

K9 کتوں کو ایسے مشکل اور حساس کاموں کے لیے تیار کرنے کے لیے معمول کی تربیت کافی نہیں ہوتی۔ سرچ اینڈ ریسکیو کتوں کو مختلف ماحول میں خصوصی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ مختلف حالات اور مشنز میں مؤثر انداز میں کام کر سکیں۔

تربیت کے دوران کتوں کو ہموار زمین، صحرائی علاقوں، جنگلات اور دیگر مقامات پر مختلف حالات سے روشناس کرایا جاتا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں تعینات کتوں کے لیے مختلف موسموں میں کام کرنے کی تربیت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ روضہ عبید کے مطابق متحدہ عرب امارات میں شدید گرمی ہوسکتی ہے جبکہ ان کتوں کو کبھی سرد ممالک میں بھی خدمات انجام دینا پڑ سکتی ہیں، اس لیے مختلف ماحول میں تربیت انہیں بدلتے موسم اور حالات کے مطابق کام کرنے کے قابل بناتی ہے۔

خواتین کا اہم کردار

روضہ عبید کے مطابق خصوصی سیکیورٹی شعبے میں کام کرنے کے دوران اماراتی خواتین کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے، تاہم ملک، حکومت اور قیادت کی جانب سے خواتین کی حوصلہ افزائی نے ان شعبوں میں ان کا اعتماد بڑھایا ہے۔

خواتین K9 اہلکار خواتین کی تلاشی اور انسپیکشن کے دوران بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں متحدہ عرب امارات کے سماجی اور ثقافتی ماحول کے باعث خواتین اہلکاروں کی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔

ایک کتا، ایک ٹرینر

ہر تربیت یافتہ پولیس کتے کے ساتھ ایک مخصوص ٹرینر منسلک ہوتا ہے۔ روضہ عبید کے مطابق اس طریقہ کار سے ٹرینر کو کتے کے رویے، صلاحیتوں اور کام کرنے کے انداز کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

K9 یونٹ میں لاپتا افراد کی تلاش، دھماکا خیز مواد اور منشیات کی نشاندہی اور ٹریکنگ سمیت مختلف شعبوں کے لیے کتے تربیت یافتہ ہیں۔

یونٹ میں کاکر اسپینیل، لیبراڈور، بیلجین میلینوا اور جرمن شیفرڈ سمیت مختلف نسلوں کے کتے موجود ہیں۔ تاہم کسی کتے کی ذمہ داری صرف اس کی نسل کی بنیاد پر طے نہیں کی جاتی۔

روضہ عبید کے مطابق ہر کتے کی مہارت اس کی صلاحیت، جسمانی ساخت، جسامت، ذہانت اور رفتار کے جائزے کے بعد طے کی جاتی ہے۔ بعض چھوٹے کتے ایسی جگہوں میں داخل ہوسکتے ہیں جہاں بڑے کتے نہیں پہنچ سکتے، اس لیے مخصوص سرچ آپریشنز میں چھوٹے کتوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔

پولیس کے چار ٹانگوں والے اہلکاروں کی دیکھ بھال

جہاں ٹرینرز کتوں کو مشکل مشنز کے لیے تیار کرتے ہیں، وہیں ایک الگ ٹیم ان کی صحت اور جسمانی فٹنس کا خیال رکھتی ہے۔

K9 یونٹ کی ویٹرنری ڈاکٹر فرسٹ لیفٹیننٹ ڈاکٹر مریم عبداللہ الجفلا پولیس کتوں کی طبی دیکھ بھال کی نگرانی کرتی ہیں۔

یونٹ میں اس وقت 76 پولیس کتے موجود ہیں اور تمام کتوں کا باقاعدگی سے طبی معائنہ کیا جاتا ہے۔ ویٹرنری کلینک میں معائنے، علاج اور دانتوں کی صفائی کے لیے الگ کمرے موجود ہیں۔

ہر کتے کا وزن کیا جاتا ہے اور مکمل جسمانی معائنہ کیا جاتا ہے تاکہ بیماری، انفیکشن یا کسی دوسرے طبی مسئلے کی بروقت نشاندہی ہوسکے۔

کتوں کو باقاعدگی سے پیراسائٹ سے بچاؤ کی ادویات، ویکسین اور خون کے ٹیسٹ بھی دیے جاتے ہیں۔ سالانہ ویکسینیشن کے علاوہ خون اور بائیوکیمیکل ٹیسٹ کے ذریعے ان کی اندرونی صحت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

دانتوں کی صفائی بھی دیکھ بھال کا اہم حصہ ہے، کیونکہ خاص طور پر چھوٹی نسلوں کے کتوں کے دانتوں پر پلاک اور ٹارٹر جمع ہوسکتا ہے۔

ویٹرنری کلینک کا خوف ختم کرنے کی کوشش

طبی دیکھ بھال کے ساتھ یہ بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ کتے ویٹرنری کلینک کو خوف کی جگہ نہ سمجھیں۔ اس مقصد کے لیے مثبت انداز میں تربیت دی جاتی ہے تاکہ K9 کتے کلینک، معائنے کے کمرے اور وزن کرنے والی مشین سے مانوس ہوجائیں۔

ڈاکٹر مریم کے مطابق کتوں کو اس طرح تربیت دی گئی ہے کہ وہ ویٹرنری ایریا کو کسی خوف کی چیز نہ سمجھیں۔ تربیت کے نتیجے میں کتے معمول کے اس عمل سے مانوس ہوچکے ہیں اور بعض اوقات کلینک میں داخل ہوتے ہی خود وزن کرنے والی مشین کی طرف چلے جاتے ہیں۔

دبئی پولیس کی ان خواتین کے لیے یہ کام صرف تربیت یافتہ پولیس کتوں کے ساتھ کام کرنے تک محدود نہیں، بلکہ انہیں تیار کرنا، ان کی صحت کا خیال رکھنا اور کمیونٹی کی خدمت کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کرنا بھی ان کی ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button