
خلیج اردو
بھارتی سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو معطل کرنے کا عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور مرکزی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔ عدالت میں گیانیش کمار پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے دیگر دو الیکشن کمشنرز کی منظوری یا اتفاق رائے کے بغیر اہم فیصلے کیے۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک کثیر رکنی آئینی ادارہ ہے اور اس کے فیصلے قانون کے مطابق اتفاق رائے یا اکثریت سے ہونے چاہئیں۔ عدالت نے الیکشن کمیشن سے ایک ہفتے کے اندر جواب طلب کرتے ہوئے معاملے کی مزید سماعت 13 اکتوبر کو مقرر کردی۔
درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے انتخابی فہرستوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن، ووٹر رجسٹریشن، پولنگ بوتھس کی تعداد میں ردوبدل اور دیگر اہم معاملات سے متعلق بعض فیصلے اکیلے کیے اور فائلیں دیگر دو الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کے سامنے پیش نہیں کی گئیں۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت الیکشن کمیشن ایک کثیر رکنی ادارہ ہے اور الیکشن کمیشن کے بزنس ٹرانزیکشن رولز کے مطابق فیصلے اتفاق رائے سے یا اختلاف کی صورت میں اکثریت کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔ درخواست میں کہا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر دیگر کمشنرز پر فوقیت رکھنے والے سربراہ نہیں بلکہ مساوی ارکان میں پہلے رکن کی حیثیت رکھتے ہیں۔
عدالت نے تاہم فوری طور پر چیف الیکشن کمشنر کو معطل کرنے کی درخواست منظور نہیں کی۔ بینچ نے ریمارکس دیے کہ یکطرفہ طور پر معطلی کا حکم الیکشن کمیشن کے کام اور انتخابی عمل کو متاثر کرسکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پہلے متعلقہ فریقین کا مؤقف سننا ضروری ہے۔
چیف جسٹس سوریا کانت نے واضح کیا کہ اگر تحقیقات اور الیکشن کمیشن کے جواب سے یہ ثابت ہوا کہ کسی فیصلے میں قانونی طور پر مطلوب اتفاق رائے یا اکثریت کی پابندی نہیں کی گئی تو عدالت ایسے فیصلوں کو ختم یا واپس لینے پر غور کرسکتی ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن سے زیرِ تنازع فیصلوں کا ریکارڈ بھی پیش کرنے کو کہا ہے۔
یہ معاملہ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی فہرستوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے باعث پہلے ہی سیاسی اور عوامی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران انتخابی فہرستوں، ووٹر رجسٹریشن اور کمیشن کے ٹیکنالوجی سسٹمز سے متعلق فیصلوں پر کم از کم 14 مرتبہ باضابطہ اعتراضات اٹھائے تھے۔
الیکشن کمیشن نے تاہم ان اعتراضات کو ادارہ جاتی اختلاف قرار دینے کی تردید کی ہے۔ کمیشن کا مؤقف ہے کہ مسودہ تیار کرنے کے مرحلے میں انتظامی سوالات، تجاویز اور مختلف آرا معمول کے فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ ہوتی ہیں، جبکہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے شیڈول سے متعلق فیصلے متفقہ طور پر کیے گئے تھے۔
دوسری جانب بھارتی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ بھی جاری ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اجول بھویان کے ان ریمارکس کے بعد گیانیش کمار کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر کوئی انتخابی عمل لاکھوں یا کروڑوں شہریوں کو ووٹ کے حق سے محروم کردے تو ایسا عمل بنیادی طور پر من مانی قرار پاتا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج بھی جاری ہے۔ نئی دہلی میں مظاہرین نے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی اور گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج کیا، جبکہ بعض اپوزیشن جماعتوں اور نوجوانوں کی تنظیموں نے بھی احتجاج کی حمایت کی ہے۔
سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد گیانیش کمار کی معطلی کا معاملہ فوری طور پر آگے نہیں بڑھا، تاہم عدالت کی جانب سے الیکشن کمیشن سے تفصیلی جواب اور ریکارڈ طلب کیے جانے کے باعث کمیشن کے اندر فیصلہ سازی کے طریقہ کار سے متعلق الزامات اب عدالتی جانچ کے مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔ عدالت 13 اکتوبر کو فریقین کے جوابات اور ریکارڈ کی روشنی میں مزید کارروائی کرے گی۔







