متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے شہریوں اور رہائشیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جمعہ 9 اکتوبر کو ملک بھر کی مساجد میں نماز استسقا ادا کریں، تاکہ اللہ تعالیٰ سے بارش اور رحمت طلب کی جا سکے۔

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے شہریوں اور رہائشیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جمعہ 9 اکتوبر کو ملک بھر کی مساجد میں نماز استسقا ادا کریں، تاکہ اللہ تعالیٰ سے بارش اور رحمت طلب کی جا سکے۔

دبئی کی مساجد میں نماز استسقا دوپہر 12 بج کر 15 منٹ پر جبکہ شارجہ میں 11 بج کر 38 منٹ پر ادا کی جائے گی۔ یہ نماز ہفتہ وار نماز جمعہ سے تقریباً نصف گھنٹہ پہلے ادا کی جائے گی۔

نماز استسقا کو عربی میں صلاۃ الاستسقاء کہا جاتا ہے اور اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ سنت مؤکدہ ہے۔ بارش کو اسلام میں اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا گیا ہے اور قرآن کریم میں بھی بارش کے نزول کو اللہ کی رحمت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

نماز استسقا فرض یا واجب نہیں بلکہ نفلی عبادت ہے، تاہم بارش کے لیے اجتماعی طور پر دعا کرنے کی غرض سے مقررہ وقت پر اس میں شرکت کی ترغیب دی جاتی ہے۔

نماز استسقا دو رکعتوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ نماز کے لیے مسجد کی طرف جاتے ہوئے عاجزی، سکون اور خشوع اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ جو افراد نماز شروع ہونے سے پہلے مسجد پہنچ جائیں، وہ نفل نماز ادا کرسکتے ہیں اور نماز استسقا کے بعد بھی نوافل ادا کرنے کی اجازت ہے۔

نماز استسقا کے لیے اذان یا اقامت نہیں دی جاتی بلکہ مقررہ وقت پر نمازی جمع ہوکر نماز ادا کرتے ہیں۔ امام نماز میں بلند آواز سے تلاوت کرتا ہے۔ پہلی رکعت میں سورۃ الاعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورۃ الغاشیہ یا اسی نوعیت کی کوئی دوسری سورت پڑھنے کی روایت بیان کی گئی ہے۔

نماز مکمل ہونے کے بعد امام منبر پر چڑھے بغیر زمین پر کھڑے ہوکر پہلا خطبہ دیتا ہے۔ خطبے کا آغاز اللہ تعالیٰ سے استغفار کے ساتھ کرنا اور دوران خطبہ کثرت سے استغفار کرنا مستحب قرار دیا گیا ہے۔

امام پہلے اور دوسرے خطبے کے درمیان مختصر وقفہ کرتا ہے، پھر زمین پر کھڑے ہوکر دوسرا خطبہ دیتا ہے۔ دوسرے خطبے کے اختتام کے قریب امام قبلہ رخ ہوتا ہے اور اپنی چادر کو الٹ دیتا ہے۔

چادر الٹنے کی یہ روایت مشکل کے آسانی میں بدلنے کی امید کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس کے بعد امام ہاتھ بلند کرکے اللہ تعالیٰ سے بارش، رحمت اور زمین و لوگوں کے لیے فائدہ مند پانی کی دعا کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button