متحدہ عرب امارات

دبئی میں مشترکہ رہائش کے نئے قوانین سے خاندانوں کو بھی سستے کرایوں کی امید، اچانک بے دخلی کا خدشہ کم ہوگا

خلیج اردو
دبئی میں مشترکہ رہائش سے متعلق نئے قوانین کے اعلان کے بعد تارکین وطن خاندانوں اور ملازمت پیشہ افراد نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ رہائشیوں کو امید ہے کہ نئے ضوابط سے مناسب کرایوں پر رہائش کے مواقع بڑھیں گے، جبکہ غیر قانونی مشترکہ رہائش کے باعث اچانک بے دخلی اور مالی نقصان جیسے مسائل میں بھی کمی آئے گی۔

دبئی میونسپلٹی نے بدھ کو فروری میں منظور کیے گئے قانون کے تحت مشترکہ رہائش کے ضوابط کی تفصیلات جاری کیں، جبکہ جمعرات کو ان علاقوں کی فہرست سامنے آئی جہاں اس طرز کی رہائش کی اجازت ہوگی۔ ان علاقوں میں کرامہ، برشا ون اور الرّقہ بھی شامل ہیں۔

فٹنس ٹرینر محمد اشرف نے اس پیش رفت کو سال کی سب سے اچھی خبر قرار دیا۔ ان کے مطابق وہ پہلے القصیص میں ایک مشترکہ ولا میں رہتے تھے، تاہم گزشتہ سال مشترکہ رہائش کے خلاف سخت معائنے شروع ہونے پر انہیں وہاں سے منتقل ہونے کا کہا گیا۔ مختصر وقت میں مناسب کرائے پر دوسرا گھر تلاش کرنا مشکل تھا، اس لیے انہوں نے اپنی اہلیہ اور تین سالہ بیٹے کو بھارت واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

محمد اشرف نے بتایا کہ ان کا خاندان رواں سال رمضان کے بعد دبئی واپس آنے کا منصوبہ بنا رہا تھا، لیکن خطے میں جاری کشیدگی کے باعث واپسی میں مزید تاخیر ہوگئی۔ ان کے مطابق نئے قوانین سے امید پیدا ہوئی ہے کہ اب کم خرچ رہائشی یونٹس دستیاب ہوں گے اور خاندان کے لیے دوبارہ دبئی میں اکٹھے رہنا آسان ہوسکے گا۔

قانون کے تحت جائیداد مالکان اور مشترکہ رہائش چلانے والے منتظمین کو اپنی حیثیت ضوابط کے مطابق کرنے کے لیے ایک سال کی مہلت دی گئی ہے۔ تمام متعلقہ افراد کو 8 ستمبر 2027 تک نئے تقاضوں کی پابندی کرنا ہوگی۔

دوسری جانب فلپائنی تارک وطن ماریا نے نئے قوانین کو قانونی تحفظ کے لیے اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق جنوری میں ایک ایجنٹ نے انہیں دیرا کے علاقے میں مشترکہ رہائش دلانے کا وعدہ کرکے تقریباً 4 ہزار درہم وصول کیے۔ انہوں نے پورے ماہ کا کرایہ پیشگی ادا کیا، لیکن رہائش اختیار کرنے کے صرف تین دن بعد مالک مکان نے انہیں جگہ خالی کرنے کا کہہ دیا، کیونکہ وہاں مشترکہ رہائش کی اجازت نہیں تھی۔

ماریا کے مطابق رقم واپس لینے کے لیے کئی روز تک ایجنٹ سے رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم اس نے اپنا فون بند کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ضوابط سے رہائش کے حوالے سے ابہام کم ہوگا اور کرایہ داروں سمیت تمام متعلقہ افراد کو قانونی تحفظ مل سکے گا۔

بھارتی تارک وطن شہناز حسین نے بھی نئے قوانین کا خیرمقدم کیا۔ ان کے مطابق رواں سال کے آغاز میں مالک مکان نے انہیں اور ان کی دوست کو صرف پانچ دن میں مشترکہ رہائش خالی کرنے کا حکم دیا تھا، کیونکہ وہاں صرف خاندانوں کو رہنے کی اجازت تھی۔ شہناز نے کہا کہ اس دوران انہیں شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، تاہم واضح معاہدوں اور رہائشی عمارتوں کے لیے مقررہ ضوابط سے مستقبل میں اس طرح کی اچانک بے دخلی کے واقعات کم ہونے کی امید ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button