
خلیج اردو
اسپیس ایکس اور اسٹارلنک کے سربراہ ایلون مسک نے بھارت میں اپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کے آغاز کے لیے لائسنس کے معاملے پر کانگریس رہنما راہول گاندھی کی حمایت کا شکریہ ادا کیا ہے۔ دونوں کے درمیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہونے والی گفتگو میں مسک نے بھارت میں اسٹارلنک کو درپیش صورت حال کو تشویش ناک قرار دیا۔
بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے ایلون مسک کی ایک پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ایلون، بھارت میں خوش آمدید، ابھی انتظار کریں جب آپ کی ملاقات دوسرے شخص سے ہوگی۔ اس پر مسک نے جواب دیا کہ شکریہ راہول، یہ صورت حال واقعی تشویش ناک ہے۔
یہ تبادلہ خیال بھارت میں اسٹارلنک کو لائسنس جاری کرنے کے معاملے پر جاری بحث کے دوران سامنے آیا ہے۔ ایلون مسک نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی کمپنی پانچ سال سے بھارتی قوانین اور حکومتی تقاضوں پر عمل کر رہی ہے، اس کے باوجود اسے سروس شروع کرنے کی اجازت نہیں ملی۔
مسک نے اپنی ایک پوسٹ میں سوال اٹھایا کہ اسٹارلنک کو 165 سے زائد ممالک میں کام کرنے کی اجازت حاصل ہے، تو پھر بھارت میں اب تک لائسنس کیوں نہیں دیا گیا؟ انہوں نے بھارتی ارب پتی مکیش امبانی کا نام لیتے ہوئے بھی سوال کیا کہ کیا بھارت میں اصل اختیار انہی کے پاس ہے؟
ایک اور پوسٹ میں ایلون مسک نے الزام لگایا کہ بعض طاقتور کاروباری مفادات اسٹارلنک کی بھارتی مارکیٹ میں آمد روک رہے ہیں تاکہ عوام پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھ سکیں۔ انہوں نے اس صورت حال کو بھارتی عوام کے خلاف قرار دیا۔
دوسری جانب بھارتی وزارت مواصلات نے اسٹارلنک کے خلاف مخصوص کاروباری مفادات کی جانب سے رکاوٹیں ڈالنے کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ٹیلی کمیونیکیشن، بشمول سیٹلائٹ مواصلاتی خدمات، کے لیے ضابطہ کار منصفانہ اور غیر امتیازی ہے۔
وزارت کے مطابق غیر جغرافیائی مدار میں کام کرنے والے سیٹلائٹ نظام کے ذریعے موبائل مواصلاتی خدمات فراہم کرنے والی تین عالمی کمپنیوں کو ٹیلی کام لائسنس جاری کیے جاچکے ہیں۔ ان تمام کمپنیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ صارفین اور ان کے ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق مقررہ سکیورٹی تقاضے پورے کریں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ سکیورٹی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ کمپنی اسپیکٹرم مختص کرانے کے اگلے مرحلے میں جاسکتی ہے۔
وزارت نے مزید کہا کہ تینوں کمپنیاں اس وقت مجموعی طور پر ضابطہ جاتی عمل کے تقریباً یکساں مرحلے پر ہیں، اس لیے نظام کو غیر منصفانہ یا امتیازی قرار دینے کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔
ادھر اسٹارلنک کی نائب صدر برائے کاروباری امور لارین ڈریئر نے 7 اکتوبر کو انڈیا موبائل کانگریس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے بھارتی مارکیٹ کے لیے مخصوص سکیورٹی انتظامات تیار کرلیے ہیں اور سروس شروع کرنے کی تیاری جاری ہے۔ ان کے مطابق اسٹارلنک بھارت میں زمینی انفراسٹرکچر قائم کرچکی ہے، جس میں 20 گیٹ وے مقامات اور سیکڑوں اینٹینا شامل ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے بھارتی صارفین کا ڈیٹا ملک کے اندر رکھنے کے انتظامات بھی کیے ہیں۔






