
خلیج اردو
دبئی پولیس نے جڑواں بچوں کی پیدائش کے دوران جاں بحق ہونے والی سوڈانی خاتون مروہ کے خاندان کی کفالت کے لیے ان کے شوہر اور بہن کو ملازمتیں فراہم کرنے میں مدد شروع کر دی ہے۔ مروہ کی وفات کے بعد خاندان اپنے واحد کفیل سے محروم ہوگیا تھا، جبکہ عجمان میں ان کے گھر کا کرایہ نامہ بھی ختم ہوگیا تھا۔
خلیج ٹائمز کے مطابق مروہ مئی 2016 سے دبئی پولیس کے ہیلتھ سینٹر میں کام کر رہی تھیں۔ ان کی وفات کے بعد نومولود جڑواں بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ان کی بڑی بہن نے سنبھال لی، جو ابوظبی میں رہتی ہیں اور پہلے ہی پانچ بچوں کی والدہ ہیں۔ یوں وہ اب جڑواں بچوں سمیت سات بچوں کی پرورش کر رہی ہیں۔
دبئی پولیس کے مطابق ادارہ خاندان سے مسلسل رابطے میں ہے، ان کے حالات کا جائزہ لے رہا ہے اور جذباتی و سماجی معاونت بھی فراہم کر رہا ہے۔ پولیس نے مروہ کے شوہر اور چھوٹی بہن کو روزگار فراہم کرنے میں مدد کے ذریعے خاندان کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا موقع دینے کی کوشش کی ہے۔
مروہ کے خاندان اور دبئی پولیس کے درمیان تعلق چار دہائیوں سے زیادہ پرانا ہے۔ یہ تعلق 1983 میں شروع ہوا، جب ان کے والد سارجنٹ احمد الامین بخیت نے دبئی پولیس کے جنرل ڈپارٹمنٹ آف کریمنل انویسٹی گیشن میں ملازمت اختیار کی۔ وہ 1992 میں اپنے آبائی ملک میں اہل خانہ کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کے دوران انتقال کر گئے، جس کے بعد ان کی بیوہ اور تین کم عمر بیٹیاں رہ گئیں۔
دبئی پولیس نے مروہ کی والدہ کو ملازمت فراہم کی تاکہ وہ اپنے بچوں کی کفالت کر سکیں اور ادارے کے ساتھ خاندان کا تعلق برقرار رہے۔ بعد ازاں والدہ کی بیماری کے دوران بھی پولیس نے بیرون ملک علاج کے لیے معاونت کی۔ وہ مارچ 2016 میں علاج کے دوران انتقال کر گئیں۔
والدہ کی وفات کے دو ماہ بعد مروہ نے دبئی پولیس کے ہیلتھ سینٹر میں ملازمت اختیار کی اور خاندان کی کفالت کی ذمہ داری سنبھال لی۔ اسی سال خاندان کو پولیس کے سوشل سولیڈیرٹی فنڈ سے مالی معاونت بھی فراہم کی گئی۔
دبئی پولیس نے مروہ کو ایک محنتی اور ذمہ دار ملازمہ قرار دیا، جو پیشہ ورانہ فرائض کے ساتھ اپنے خاندان کی ذمہ داریاں بھی نبھاتی رہیں۔
خلیج ٹائمز کے مطابق مروہ کی نماز جنازہ 25 ستمبر کو دبئی کی القصیس قبرستان مسجد میں ادا کی گئی، جس میں متحدہ عرب امارات کے مختلف علاقوں سے سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔ نماز جنازہ میں شرکت کے لیے سوشل میڈیا پر اپیل کی گئی تھی، جسے جنازہ یو اے ای نے شیئر کیا تھا۔
مروہ کی دوست آیا نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ نماز جنازہ کا ہال مکمل بھر گیا تھا اور بعض افراد نے باہر نماز ادا کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف امارات سے لوگوں کی آمد نے یہ احساس دلایا کہ پورا متحدہ عرب امارات مروہ کے خاندان کی طرح ان کے اپنے خاندان کا حصہ بن گیا تھا۔







