
خلیج اردو
خلیجی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کی فضائی کمپنیوں فلائی دبئی اور اتحاد ایئرویز نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں اور خطے کی سکیورٹی صورتِ حال کے باعث پروازوں کی منسوخی میں توسیع کردی ہے۔ فلائی دبئی نے ابہا، دمام اور ریاض کے لیے اپنی پروازیں 14 اکتوبر تک منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اتحاد ایئرویز نے ابوظہبی سے سعودی عرب کے تین بڑے شہروں دمام، جدہ اور ریاض کے لیے 12 اور 13 اکتوبر کی متعدد پروازیں منسوخ کردی ہیں۔
فلائی دبئی کے ترجمان کے مطابق کمپنی صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور پروازوں کے شیڈول میں کسی بھی تبدیلی سے مسافروں کو اپنے سرکاری ذرائع کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا۔ منسوخ شدہ پروازوں سے متاثرہ مسافر ایئرلائن کی ویب سائٹ پر مینیج یور بکنگ کے ذریعے رقم کی واپسی یا پرواز کی نئی بکنگ کے اختیارات دیکھ سکتے ہیں، جبکہ ٹریول ایجنٹس کے ذریعے ٹکٹ خریدنے والے مسافروں کو متعلقہ ایجنٹ سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اتحاد ایئرویز نے 12 اکتوبر کو ابوظہبی اور دمام کے درمیان چار، ابوظہبی اور جدہ کے درمیان چار، جبکہ ابوظہبی اور ریاض کے درمیان بھی چار پروازیں منسوخ کیں۔ 13 اکتوبر کے لیے بھی دمام، جدہ اور ریاض کے روٹس پر متعدد پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔ ایئرلائن کے مطابق خطے کی صورتِ حال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے، اس لیے پروازوں کے شیڈول میں مزید تبدیلیاں بھی ممکن ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے مختلف ہوائی اڈوں پر حملوں کے بعد فضائی آپریشن متاثر ہوا ہے۔ ریاض کا شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ان مقامات میں شامل ہے جہاں بار بار حملوں کے باعث آپریشن معطل کرنے اور پروازیں منسوخ کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ جدہ اور دمام سمیت مملکت کے دیگر علاقوں کے ہوائی اڈے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ حوثی گروپ نے متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
فضائی آپریشن میں خلل کے باعث مسافروں کو پروازوں میں تاخیر، کنیکٹنگ فلائٹس چھوٹنے اور سفری منصوبوں میں غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ سکیورٹی خدشات کے باعث متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے بھی ریاض کے لیے اپنی پروازیں معطل یا ان کے شیڈول میں تبدیلی کی ہے۔
ایئرلائنز نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے اپنی پرواز کی تازہ صورتِ حال متعلقہ فضائی کمپنی سے براہِ راست معلوم کریں، کیونکہ سکیورٹی صورتِ حال اور ہوا بازی کے حکام کی ہدایات کے مطابق مزید پروازیں منسوخ ہونے یا شیڈول تبدیل ہونے کا امکان موجود ہے۔







