
خلیج اردو
ابوظبی میں چار طلبہ پر جسمانی تشدد کرنے والے نجی سکول کے استاد کو دو سال قید اور ملک بدری کی سزا سنا دی گئی، عدالت نے مجرم کو تمام عدالتی اخراجات ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ ابوظبی کی فوجداری عدالت کے مطابق استاد نے کلاس روم میں چار طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں انہیں ایسی چوٹیں آئیں کہ وہ 20 دن سے زیادہ نہیں بلکہ اس سے کم مدت تک اپنے ذاتی امور انجام دینے کے قابل نہیں رہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران استاد نے طلبہ پر تشدد کرنے کا اعتراف کیا۔ ملزم کا مؤقف تھا کہ اس نے سبق کے دوران طلبہ کو شور شرابے اور بدنظمی سے روکنے اور ان کے رویے کی اصلاح کے لیے ایسا کیا۔ تاہم عدالت نے اس وضاحت کو تشدد کا جواز تسلیم نہیں کیا۔
ابوظبی کے محکمہ عدلیہ کے مطابق کلاس روم میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج نے ملزم کے اعتراف کی تائید کی۔ ریکارڈنگ میں طلبہ پر شدید تشدد اور سختی کے مناظر سامنے آئے، جبکہ عدالت نے قرار دیا کہ اس اقدام کا کوئی جواز موجود نہیں تھا۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ سکول اور دورانِ تدریس طلبہ پر جسمانی حملہ کرنا قوانین اور ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف طلبہ کی ذاتی سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ عوامی تحفظ اور امن و امان کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ عدالت نے زور دیا کہ شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور نقصان پہنچانے والے جرائم کی روک تھام کے لیے قانون پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے۔
متحدہ عرب امارات کے قوانین کے تحت اساتذہ کی جانب سے طلبہ پر جسمانی تشدد ممنوع ہے اور حالات کے مطابق یہ قابل سزا جرم بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ استاد کو محکمانہ کارروائی، ملازمت سے برطرفی اور دیگر قانونی نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
2022 میں جاری کی گئی تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ سے متعلق قومی پالیسی کے مطابق جسمانی بدسلوکی میں بچے کو جسمانی نقصان یا چوٹ پہنچانا، یا اسے ایسے نقصان سے بچانے میں ناکامی یا عدم دلچسپی شامل ہے۔ امارات کے قانونِ جرائم و سزاؤں کے تحت چوٹ یا بیماری کا سبب بننے والے حملے پر قید اور جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے، جبکہ سزا کا تعین واقعے کے حالات اور نقصان کی شدت کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔







