متحدہ عرب امارات

شیخ محمد بن راشد نے دبئی کے ساتھ ایک پراعتماد نسل بھی تعمیر کی، وزیر کابینہ امور

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے وزیر کابینہ امور محمد عبداللہ القرقاوی نے کہا ہے کہ شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے صرف دبئی کو عالمی شہر نہیں بنایا بلکہ خطے کے لوگوں کو اپنی صلاحیتوں اور مستقبل کے امکانات پر یقین کرنا بھی سکھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ دبئی کے حکمران نے چھ دہائیوں پر محیط قیادت کے دوران ایسا ماڈل تشکیل دیا جس نے معاشرے، ثقافت اور انسانی صلاحیتوں کو نئی سمت دی۔

محمد عبداللہ القرقاوی نے محمد بن راشد لیڈرشپ فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ شیخ محمد کی چھ دہائیوں کی کامیابیوں کو کسی ہوائی اڈے، بلند عمارت یا منصوبے تک محدود نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ انہوں نے ایک شہر کے ساتھ معاشرہ، ثقافت اور انسانی ترقی کا ایک نمونہ بھی تعمیر کیا۔

وزیر کابینہ امور کے مطابق شیخ محمد نے لوگوں کو عالمی سطح پر سوچنا سکھایا اور یہ تصور دیا کہ بلند عزائم کو وسائل یا جغرافیائی حدود تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے انسانی سرمائے، علم اور محنت کو ترقی کا مرکز بنا کر ثابت کیا کہ درست قیادت اور مسلسل کوشش سے بڑے خواب حقیقت میں بدلے جاسکتے ہیں۔

القرقاوی نے کہا کہ ماضی میں خطے کو زیادہ تر تنازعات اور تیل پر انحصار کرنے والی معیشت کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا، لیکن شیخ محمد نے یہاں کے لوگوں کی صلاحیتوں پر اعتماد کیا۔ اسی وژن کے تحت تجارت، ہوا بازی، سیاحت، مالیات اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں معیشت کو وسعت دی گئی اور نئے خیالات کو ایسے مواقع میں تبدیل کیا گیا جنہوں نے لوگوں کی زندگیوں پر اثر ڈالا۔

ان کے مطابق دبئی اب باصلاحیت افراد، بلند عزائم رکھنے والے پیشہ ور افراد اور بین الاقوامی کمپنیوں کی منزل بن چکا ہے۔ ماضی میں بہتر مواقع کی تلاش میں نوجوانوں کو اپنے شہر چھوڑ کر مغربی ممالک کا رخ کرنا پڑتا تھا، لیکن اب لوگ تحفظ، مواقع، محنت کے احترام اور قابلیت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے لیے دبئی آتے ہیں۔

القرقاوی نے کہا کہ شیخ محمد بن راشد سے حاصل ہونے والے اہم اسباق میں سے ایک یہ ہے کہ حکومتی کارکردگی کو لوگوں کی زندگیوں پر اس کے اثرات کی بنیاد پر جانچنا چاہیے۔ انہوں نے شیخ محمد کے مختلف مقامات کے دوروں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ سرکاری خدمات کا خود جائزہ لیتے، سوالات کرتے اور منصوبوں پر پیش رفت معلوم کرتے تھے۔ ان کے مطابق شیخ محمد کا ایک بنیادی سوال ہوتا تھا کہ کیا لوگ مطمئن ہیں؟

انہوں نے کہا کہ اگرچہ عوامی اطمینان کو بعض اوقات ناقابل حصول ہدف سمجھا جاتا ہے، لیکن شیخ محمد نے اپنی ٹیموں کو سکھایا کہ لوگوں کو مطمئن کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ وہ حکام کو بڑے اہداف حاصل کرنے کی ترغیب دیتے اور پوچھتے تھے کہ کوئی کام کیوں نہیں ہوسکتا۔ اس طرز قیادت نے سرکاری ٹیموں کے کام کرنے کا انداز تبدیل کیا، فیصلوں میں تیزی لائی اور عوامی ضروریات پر توجہ بڑھائی۔

القرقاوی کے مطابق کسی بھی سرکاری خدمت کے پیچھے ایک ایسا شخص ہوتا ہے جو اپنے مسئلے کے حل کا منتظر ہوتا ہے۔ جس فیصلے میں ایک ماہ لگ سکتا تھا، وہ ایک منٹ میں کیا جاسکتا ہے، جبکہ برسوں میں مکمل ہونے والا منصوبہ ایک ہفتے میں بھی پایہ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیز رفتار فیصلوں، بلند عزائم اور عملی اقدامات کی یہی ثقافت سرکاری شعبے سے نکل کر نجی شعبے اور نوجوانوں تک پہنچی، جس سے دبئی نے کام کرکے دکھانے والے شہر کی پہچان حاصل کی۔

وزیر کابینہ امور نے شیخ محمد کے ساتھ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک کام کرنے کے ذاتی تجربات بھی بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے شیخ محمد کو مشکل فیصلے کرتے، ایسے وقت میں جرات مندانہ اقدامات اٹھاتے جب دوسرے ہچکچاتے تھے، اور فوری کارروائی کرتے دیکھا جب دیگر لوگ انتظار میں رہتے تھے۔

القرقاوی نے شیخ محمد کی انسانی ہمدردی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک ایسے بچے کے علاج کی پیش رفت بھی معلوم کرتے رہے جسے وہ ذاتی طور پر نہیں جانتے تھے۔ اسی طرح وہ ضرورت مند افراد کے بارے میں پوچھتے اور افریقہ کے ایک دور دراز گاؤں میں جاری منصوبے پر بھی توجہ دیتے تھے۔

انہوں نے اپنی مرحوم والدہ سے متعلق ایک یاد بھی شیئر کی۔ ان کے مطابق شیخ محمد مختلف رہنماؤں کو اپنی کتابوں پر دستخط کرکے دے رہے تھے کہ انہوں نے القرقاوی کی والدہ کے لیے بھی ایک کتاب پر خصوصی پیغام تحریر کیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کی والدہ ان کے لیے کتنی اہمیت رکھتی ہیں۔ القرقاوی نے کہا کہ ایسی باتیں سرکاری رپورٹس میں درج نہیں ہوتیں، لیکن یہ کسی شخصیت کے اصل کردار کو ظاہر کرتی ہیں۔

القرقاوی کے مطابق شیخ محمد کی سب سے بڑی کامیابی صرف دبئی کی تعمیر و ترقی نہیں بلکہ لوگوں کے اندر یہ اعتماد پیدا کرنا ہے کہ عرب دنیا کے افراد بھی عالمی سطح پر مقابلہ کرسکتے ہیں اور وہ کام انجام دے سکتے ہیں جنہیں کبھی ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شیخ محمد کا ورثہ ایک ایسے شہر سے کہیں بڑھ کر ہے جس پر لوگ فخر کرسکیں، کیونکہ انہوں نے ایسا معاشرہ تشکیل دیا جہاں لوگ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں تحفظ محسوس کرتے ہیں۔

شیخ محمد سے مخاطب ہوتے ہوئے القرقاوی نے کہا کہ ان پر اعتماد کرنے، عزائم بلند کرنے اور ناممکن دکھائی دینے والے اہداف حاصل کرنے میں مدد دینے پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قیادت کا بہترین جواب محض الفاظ نہیں بلکہ عملی کام ہے۔ اب ان لوگوں کی ذمہ داری ہے جنہوں نے اس قیادت سے فائدہ اٹھایا کہ وہ حاصل کی گئی کامیابیوں کا تحفظ کریں اور ان اصولوں کو آگے بڑھائیں۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button