
خلیج اردو
نیویارک/دبئی: اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے لیے ترشح کا اعلان کرنے والی متحدہ عرب امارات کی سفارت کار لانا نسیبہ نے اپنا 8 صفحات پر مشتمل ویژن اسٹیٹمنٹ (منشور) جاری کر دیا ہے۔ اس منشور میں انہوں نے اقوامِ متحدہ کے نظام میں اصلاحات، اعتماد کی بحالی اور نتائج پر مبنی سفارت کاری کا فریم ورک پیش کیا ہے۔
لانا نسیبہ کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ میں غیر فعال وعدوں نے ملکوں کے درمیان اعتماد کو مجروح کیا ہے، لہٰذا بین الاقوامی تعاون کو زبانی جمع خرچ کے بجائے قابلِ عمل نتائج دینا ہوں گے۔ انہوں نے اپنے بچوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صبر اور ہنگامی اقدامات کا سبق اپنے بچوں سے سیکھا، جیسے والدین بچوں کی فوری ضرورتوں اور ان کے طویل المدتی مستقبل دونوں کا خیال رکھتے ہیں۔
لانا نسیبہ کے 8 نکاتی ویژن کے اہم پہلو:
1. سمجھوتے کی قیمت (The price of compromise):
بین الاقوامی تعاون اور سمجھوتوں پر ممالک کا اعتماد بحال کرنا، تاکہ طویل المدتی کے بجائے فوری، تیز رفتار اور حقیقی نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ "جو وعدے کیے جائیں، انہیں پورا ہونا چاہیے۔”
2. سیکرٹری جنرل کے فرائض اور غیر جانبداری:
اگرچہ سیکرٹری جنرل کے پاس کوئی فوج یا ووٹ نہیں ہوتا، مگر غیر جانبداری کے ذریعے تمام ممالک کو ایک پیج پر لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ بغیر کسی دباؤ کے تمام حکومتوں سے کھل کر بات کریں گی اور ان کا کوئی پسندیدہ یا ناپسندیدہ ملک نہیں ہوگا۔
3. امن، ابتدائی معاہدے اور فرسٹ ایکٹرز:
بڑے معاہدوں سے پہلے مقامی سطح پر جنگ بندی، قیدیوں کا تبادلہ اور انسانی امداد کی فراہمی جیسے چھوٹے اقدامات پر توجہ دینا۔ اس عمل میں علاقائی تنظیموں اور ان ثالثوں کو شامل کرنا جو فریقین کے قریب ہوں۔
4. ترقی اور پائیدار اہداف (Development):
اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگراموں کو مقامی ضرورتوں کے مطابق بنانا۔ اس کے لیے 6 اہم ترجیحات رکھی گئی ہیں:
-
قومی ترجیحات پر فوکس۔
-
روزگار کی فراہمی: اگلے 15 سال میں ایک ارب سے زائد نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دینا۔
-
نازک اور تنازعات کے شکار علاقوں پر توجہ۔
-
سرمایہ کاری کے خطرات میں کمی۔
-
ملکوں کے قرضوں کے مسائل کا منصفانہ اور عمل پسندانہ حل۔
-
پرائیویٹ سیکٹر اور فلاحی اداروں کے ساتھ نئی شراکت داریاں۔
5. انسانی حقوق کا بلا تفریق تحفظ:
انسانی حقوق کو بغیر کسی دوہرے معیار (Double Standards) کے لاگو کرنا، کیونکہ اقوامِ متحدہ کی ساخ کا انحصار قوانین کے یکساں اور مسلسل اطلاق پر ہے۔
6. مستقبل کی ضروریات (Artificial Intelligence & Climate):
آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور بائیو ٹیکنالوجی جیسی جدید ٹیکنالوجیز کو تمام ممالک کی رسائی میں لانا تاکہ عدم مساوات کم ہو سکے:
-
اے آئی (AI) خطرات اور ٹیسٹنگ کے لیے رضاکارانہ معلوماتی نظام۔
-
ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کا پیشگی مقابلہ۔
-
دنیا کی آدھی سے زیادہ نوجوان آبادی کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا۔
7. مالی شفافیت اور بجٹ کا بہترین استعمال:
اقوامِ متحدہ کے ہر بڑے پروگرام کو اپنے اخراجات اور حاصل کردہ نتائج کی رپورٹ فراہم کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ دوہرے کاموں (Duplication) کا خاتمہ اور غیر ادا شدہ چندوں پر رکن ممالک سے براہِ راست بات چیت کی جائے گی۔
8. درپیش چیلنجز اور عزم:
اقوامِ متحدہ دنیا کے ساتھ ہمیشہ متفق ہونے کے لیے نہیں، بلکہ دنیا کو ایک نقطے پر متفق کرنے کے لیے بنائی گئی تھی، تاکہ معاہدوں کو کارآمد اور فائدہ مند بنایا جا سکے۔







