متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کی فنانشل سروسز ریگولیٹری اتھارٹی (ایف ایس آر اے) نے دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس میں 6.3 ارب ڈالر کے سکیورٹی واقعے کے بعد بیان جاری کر دیا

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی فنانشل سروسز ریگولیٹری اتھارٹی (ایف ایس آر اے) نے دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس میں 6.3 ارب ڈالر کے سکیورٹی واقعے کے بعد بیان جاری کر دیا ہے۔ اتھارٹی نے کہا ہے کہ وہ 30 اکتوبر 2026 کو بائننس سے متعلق غیر مجاز طریقے سے ڈیجیٹل اثاثے نکالے جانے کے واقعے سے آگاہ ہے اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔

ایف ایس آر اے کے مطابق معاملے پر بائننس کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جا رہا ہے اور واقعے کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ابوظہبی گلوبل مارکیٹ کے آزاد مالیاتی ریگولیٹر نے کہا ہے کہ صارفین کے مفادات کا تحفظ اور مالیاتی منڈیوں کی شفافیت، استحکام اور منظم فعالیت برقرار رکھنا اس کی بنیادی ترجیحات ہیں۔ اتھارٹی نے فوری طور پر واقعے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

بائننس میں سامنے آنے والے سکیورٹی واقعے کے مالی اثرات کا تخمینہ تقریباً 6.3 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ اسے کرپٹو کرنسی کی تاریخ کے بڑے ترین سائبر حملوں اور ڈیجیٹل اثاثوں کی چوری کے واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی صارفین کے فنڈز کے تحفظ سے متعلق خدشات کو دوبارہ اجاگر کر دیا ہے۔

بائننس کا کہنا ہے کہ اس نے مختلف شراکت داروں کے تعاون سے متاثرہ اثاثوں کا سراغ لگانے اور انہیں منجمد کرنے کی کارروائی شروع کی۔ کمپنی کے مطابق اب تک تقریباً 3 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے منجمد کیے جا چکے ہیں، تاہم باقی 3.3 ارب ڈالر کے اثاثوں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کوئی تفصیلی اپ ڈیٹ جاری نہیں کی گئی۔

بائننس کی شریک بانی یی ہی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ہیکنگ کے نتیجے میں ہونے والے تمام نقصانات کمپنی پورے کرے گی۔ کمپنی نے متاثرہ اثاثوں کی بازیابی کے لیے متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ کام جاری رکھنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

کرپٹو کرنسی کی صنعت کو حالیہ عرصے میں سائبر حملوں اور ڈیجیٹل اثاثوں کی چوری کے متعدد واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان واقعات کے باعث سرمایہ کاروں میں ڈیجیٹل کرنسیوں کی ملکیت، ایکسچینجز کی سکیورٹی اور صارفین کے فنڈز کے تحفظ سے متعلق تشویش بڑھ رہی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button