
خلیج اردو – سبق ویب سائٹ کے مطابق وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود نے بیان جاری کرکے بتایا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران ہمیں غیرملکی ملازمین کی طرف سے تین ہزار درخواستیں موصول ہوئیں- مصالحتی ادارے نے وڈیو اجلاس کے ذریعے تنازع کے فریقوں کا موقف سنا۔
وزارت افرادی قوت نے بتایا کہ اجیر آجر کے خلاف آّن لائن درخواست ’ودی‘ سسٹم کے تحت پیش کرتا ہے۔ انتظامیہ خود کار سسٹم کے تحت سماعت کی تاریخیں متعین کرتی ہے۔ فریقین کو سن کر ان سے شواہد طلب کیے جاتے ہیں۔ آجر اور اجیر کو حقیقت حال سے مطلع کیا جاتا ہے۔ فریقین کو مصالحت کے ذریعے تنازع طے کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ قصور وار ثابت ہونے پر آجر سے اجیر کے حقوق دلادیے جاتے ہیں۔
اگر فریقین راضی ہوجاتے ہیں تو معاملہ ختم ہوجاتا ہے۔ راضی نہیں ہوتے تو کیس لیبر کورٹ کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ آجر اوراجیر دونوں کو حق ہوتا ہے کہ وہ مصالحتی فیصلہ قبول کریں یا نہ کریں۔ قبول کرنے پر نافذ کردیا جاتاہے اورمصالحتی فیصلے پرعدم اطمینان کے اظہار پر مقدمہ لیبر کورٹ بھیج دیا جاتا ہے






