متحدہ عرب اماراتٹپس

متحدہ عرب امارات : ٹریول بین یا ڈی پورٹ ہونے کے بعد متحدہ عرب امارت واپس کیسے جا سکتے ہے ؟

جنسی جرائم، منشیات اور تشدد کے جرائم میں ملوث افراد کے واپسی ممکن نہی،تاہم انتظامی ڈیپورٹیشن پر واپسی کے امکانات ہیں

خلیج اردو : متحدہ عرب امارات میں کچھ جرائم ایسے ہے جس کے بنا پر آپکو ملک بدر یعنی ڈیپورٹ کیا جا سکتا ہے۔ خصوصاً جنسی جرائم، منشیات کی اسمگلنگ اورتشدد کے واقعات میں ملوث افراد کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جاتی۔ اس نوعیت کے جرائم اگر غیر ملکی کرتا ہے تو انہیں سزا کے فوراً بعد ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے اور ان کی متحدہ عرب امارات واپسی ممکن نہیں ہوتی ۔

اس طرح کے جرائم پر ہونے والی ڈی پورٹیشن کو Legal Deportation یعنی قانونی ملک بدری کہا جاتا ہےکہتے ہے ۔ جنسی جرائم، تشدد اور منشیات کے کیسز میں سزا بھُگتنے والے اپنے خلاف ڈی پورٹ کیے جانے کا فیصلہ ختم کروانا چاہیں تو اس کے لیے انہیں پبلک پراسیکیوشن میں درخواست دینا ہو گی جس میں ملک بدری کی سزا ختم کرنے کے لیے وجوہا ت اور ثبوت بھی فراہم کرنا ہوں گے۔

جبکہ دُبئی میں ڈیپورٹیشن کی سزا ختم کروانے کے لیے پبلک پراسیکیوشن کی ویب سائٹ پر آن لائن درخواست دی جا سکتی ہے۔ایک خصوصی کمیٹی کا اختیار ہے کہ وہ کسی شخص کی ملک بدری کا فیصلہ برقرار رکھتی ہے یا اسے کالعدم قرار دے دیتی ہے۔جبکہ دوسری قسم کی ملک بدری لیگل ڈیپورٹیشن کہلاتی ہے یہ ملک بدری کسی غیر ملکی کی مشکوک حرکات، آمدنی کے مشکوک ذرائع اور عوامی مفاد اور اخلاقیات کے منافی حرکات پر کی جایت ہے۔

اگر انتظامی ڈیپورٹیشن کا فیصلہ منسوخ کروانا ہو تو GDRFA کو درخواست دی جاتی ہے۔تاہم انتظامی بنیادوں پر جس بندے کو ڈی پورٹ کیا جانا ہے، اگر اسے امارات میں اپنے قانونی، مالی اور انتظامی معاملات نمٹانے ہیں تو پھر اسے تین ماہ کی رعایتی مُدت دی جاتی ہے۔ جس کے ختم ہونے کے بعد اسے ہر صورت ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے۔ انتظامی بنیادوں پر ڈی پورٹ کیا جانے والا شخص صرف ایک صورت میں واپس امارات آ سکتا ہے ۔ اسے وزارت داخلہ کو ملک بدری کے فیصلے کے خلاف ایک درخواست دینی ہو گی جس میں پُرانے رہائشی پرمٹس کی تفصیل، ڈی پورٹیشن کی وجوہات بتانی ہوں گی اور امارات میں دوبارہ داخلے کی وجہ بھی بتانی ہو گی، جس کے لیے دستاویزات اور ضروری ثبوت بھی مہیا کرنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button