دبئی: ( خلیج اردو) اگر عدالت کسی ملازم کے حق میں فیصلہ دے اور ارباب عدالتی فیصلے پر عمل نہ کریں تو ایسے میں ملازم کو کیا کرنا چاہیئے؟
متحدہ عرب امارات میں ملازمت کا سیکٹر وزارت انسانی وسائل اور امراٹائیزیشن کے زیر انتظام کام کرتا ہے جو ملازم اور ارباب کے درمیان تنازعات کے حل کیلئے کام کرتا ہے۔
گلف نیوز کے ایک قاری نے بتایا کہ اس کا سابقہ ارباب عدالتی فیصلے کے باوجود اس کے بقایا جات نہیں دے رہا۔ 2008 سے 2019 تک گیارہ سال میں نے اس ارباب کے ساتھ کام کیا۔ کمپنی نے سابقہ سال میرے بقایا جات کلئیر کیے بغیر مجھے ملازمت سے نکالا۔ ملازمت ختم ہونے کے بعد ایک مہینے کی تنخواہ سمیت دیگر مراعات بھی نہیں دی گئی۔
عدالت میں کیس دائر کرنے کے بعد فیصلہ میرے حق میں آیا لیکن ابھی تک کمپنی نے میرے بقایا جات ادا نہیں کیے۔ ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیئے۔
گلف نیوز نے السویدی اینڈ کمپنی کے قانونی امور کی ماہر جیہینے ارفوئی نے صلاح دی ہے کہ عدالتی فیصلے کے فوری بعد عمل داری کےئ فیصلے کیلئے درخواست دی جانے چاہیئے تھی۔ عدالت فیصلے کے تیس دن بعد فیصلے پر عمل داری کیلئے انلائن درخواست دیجئے۔
عملداری کے فیصلے کیلئےدرخواست کے ساتھ ضروری دستاویزات بھی تیار کرنی ہوگی جیسے ایک خط جس میں بقایا جات اور ملازمت ختم ہونے کے حوالے سے تفصیلات درج ہوں۔یہ سب عدالتی فیصلے کے عین مطابق کرنا ضروری ہے اور اس میں متحدہ عرب امارات کے قوانین کا خیال بھی رکھنا ہے۔
ایسی صورت میں جب کمپنی یہ وجہ بتائے کہ ان کے پاس دستیاب فنڈ کی کمی ہے ، آپ درخواست میں کمپنی کے اثاثہ جات پر قبضہ کیلئے درخواست دے سکتے ہیں۔
جیہینے ارفوئی کے مطابق ملازم اور کمپنی کے درمیان تنازعات کے حل کیلئے لیبر کورٹ موجود ہے تاہم اگر دونوں فریقین کسی حل پر نہ پہنچ سکیں تو اس کیلئے وزارت انسانی وسائل اور ایمراٹائزیشن کے پاس شکایت درج کی جا سکتی ہے لیکن اس کیلئے شکایت ملازمت کے معاہدہ ختم ہونے کے ایک سال کے اندر درج کرنا لازمی ہے۔ بصورت دیگر شکایت پر عمل نہیں ہوپائے گا۔ یاد رہے کہ لیبر کورٹ میں درخواست کیلئے ایک لاکھ درہم تک کی رقم کیلئے کوئی فیس درکار نہیں ہوتی۔
Source: Gulf News







