(خلیج اردو) کرونا وائرس کو مضبوط ذہینی کیفیت سے شکست دینے کا طریقہ بیان کرتے ہوئے ایک برطانوی شہری نے متحدہ عرب امارات میں وبائی صورتحال کے دوران گزارے ہوئے وقت کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دماغ کو مصروف رکھنے سے کرونا وائرس کے اختیاطی تدابیر پر عمل کرنا آسان ہو جاتا ہے ۔
لی خیرث نامی برطانوی شہری نے کہا کہ وہ ایک فٹنس استاد ہے اور اس سے پہلے ایک ائیل کمپنی میں کام کرتا تھے ۔ ائیل کمپنی میں مجھے اکیلے وقت گزارنے کا تجربہ ہوا جبکہ فٹنس کلب میں کام کرنے سے مجھے تندرست رہنے کے اصول معلوم ہوئے اس لئے جب کرونا وائرس کی وبائی صورتحال پیدا ہوئی تو میرے لئے خود کو بچانا زیادہ آسان تھا ۔
کرونا وائرس کی صورت حال میں میرا زیادہ وقت گھر میں گزارا اور ہفتے میں ایک مرتبہ بازار جا کر اشیاء خوردونوش کی چیزیں خریدنے جانا پڑھتا تھا ۔
لی خیرث نے کہا کہ میں زیادہ تر کتابوں کا مطالعہ کرکے وقت گزارتا ہوں جبکہ ان لائن کورسز بھی اسی دوران حاصل کئے۔ لی حیرث کا مزید کہنا تھا کہ میں متحدہ عرب امارات کے مختلف مقامات میں 20 ہزار کلومیٹر تک رننگ کی ہے اور مجھے معلوم ہوا کہ وبائی صورتحال میں آپ جتنے ذہینی طور پر مضبوط ہونگے تو ایسے میں ہر قسم کے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے ۔
کرونا وائرس کی صورتحال میں جہاں اکیلا رہنا باعث نعمت تصور کیا جارہا ہے بہت سے لوگ اکیلے رہنے سے تنگ ہوتے ہیں مگر ذہین کو مصروف رکھنے سے انسان کی قوت مدافعت بڑھ جاتی ہے اور سکون کے حصول میں آسانی پیدا ہوجاتی ہے ۔
Source : Gulf News







