متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس بھیجنے کے لیے چندہ اکٹھا کرنے والے نو عمر لڑکے سے ملیے

یو اے ای میں پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس بھیجنے کے لیے دبئی کے نوعمر رہائشی نے 75 ہزار درہم اکٹھے کیے

 

خلیج اردو آن لائن:

مشکل میں پھنسے لوگوں کو دیکھ کر دکھ کا اظہار کرنے والے بہت ہوتے ہیں لیکن آگے بڑھ کر انکی مدد کرنے والے بہت  کم۔

لیکن دبئی کے 14 سالہ حیدر علی سے ملیے جس  نے جب دبئی انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ کے باہر پاکستان واپس جانے کے خواہشمند افراد کو  ٹکٹ لینے کے لیے قطار میں لگے دیکھا تو ان کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔

منگل کے روز دبئی میں پاکستانی قونصل خانے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے حیدر علی نے بتایا کہ ” اپنی آرادم دہ کار سے  جب میں نے درجنوں افراد کو اس گرمی میں قطار میں لگے دیکھا تو مجھے بہت دکھ ہوا۔ میرے والد نے مجھے بتایا کہ یہ لوگ کورونا وائرس کے باعث یو اے ای میں پھنس گئے ہیں اور اب وطن واپس بھیجے جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اور ان میں سے زیادہ تر کے پاس واپسی کا ٹکٹ خریدنے کے پیسے نہیں ہیں”۔

حیدر علی نے مزید بتایا کہ ” میں پاکستانی قونصل خانے کی طرف سے پاکستانیوں ملک واپس بھیجنے کی مہم کے بارے میں جانتا ہوں لیکن مجھے لگا کہ لوگوں کی مدد کرنے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے”۔

جس پر حیدر علی نے اپنے گھر والوں سے بات کی کہ وہ ان لوگوں کی مدد کے لیے پیسے اکٹھے کرنا چاہتا ہے۔

حیدر علی اور اسے کے والد کاظم علی پاکستانی قونصل جنرل احمد امجد علی سے ملے جنہوں نے اس کے اس قدم کی تعریف کو اور لوگوں کی مدد کرنے کے لیے اسکا حوصلہ بڑھایا۔

حیدر نے بتایا کہ ” اس نے اپنے دوستوں اور خاندان کے افراد کی مدد سے دو ماہ میں 75 ہزار درہم اکٹھے کیے، میرے والد نے مجھے مہم شروع کرنے کے لیے 10 ہزار درہم دیے”۔ اس فنڈ سے 50 سے 60 لوگ ملک واپس جا سکتے ہیں۔

اس کی مدد کرنے والے تمام افراد کو شکریہ ادا کرتے ہوئے حیدر کا کہنا تھا کہ "مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ یو اے ای میں لوگ کتنے سخی ہیں”۔

اس حوالے سے حیدر کی ماں کا کہنا تھا کہ میں لوگوں کا رد عمل دیکھ کر بہت حیران ہوئی ہوں "مجھے نہیں لگتا تھا کہ یہ مہم اتنی کامیاب ہوگی، اور سب سے بڑھ کر قونصل جنرل علی نے ہماری بہت مدد کی”۔

پاکستانی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ وہ حیدر کے دیکھ کر بہت اچھا لگا ہے۔ قونصل جنرل حیدر کو توصیفی سند سے بھی نوازا ہے۔ اور حیدر کو دبئی میں ایک پاکستانی سکول کے سفیر بھی مقرر کیا گیا ہے۔ اور اسکی جمع کی گئی رقم پاکستانیوں کو ملک واپس بھیجنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔

Image Credit: Gulf News

خیال رہے کہ اگرچہ پاکستانیوں کو واپس بھیجنے کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ لیکن قونصل جنرل کی جانب سےمزید 100 لوگوں کی درخواستیں قبول کی ہیں۔ اس حوالے قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ "ہم ان افراد کی مدد کمیونٹی کے لوگوں کی طرف کے تعاون کے ساتھ کر رہے ہیں”۔

Source: Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button