متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات: نوکری ختم ہونے کے بعد اپنے ملک واپس جانے سے پہلے ہزاروں پودے مفت بانٹنے والے شخص سے ملیے

راجندر اپنے پودوں کو اپنے بچے سمجھتے ہیں اور انہیں ایک اچھے گھر کے لیے عطیہ کرنا چاہتے تھے

 

خلیج اردو آن لائن:

بھارتی نژاد یو اے ای کا رہائشی راجندر کمار بشنوئی جو درختوں کو گلے لگانے والے کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں،  ہزاروں درخت اور پودے لوگوں میں مفت تقسیم کرنے بعد اپنے ملک واپس جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ وہ ان پودوں کو کئی سالوں سے اگا رہے تھے۔

راجندر دبئی کے رہائشی  ہیں اور 56 سال کے ہیں، جو اب تک 8 ہزار 5 سو پودے اور درخت عطیہ کر چکے ہیں، جن میں 2 ہزار 5 سو پچھلے دو مہینوں کورونا وبا کے باعث اپنی نوکری چلے جانے  کے دوران عطیہ کیے گئے ہیں۔

راجندر اس حوالے سے بات کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ "جب مجھے کمپنی کی طرف سے مئی میں دو مہینے کا نوٹس ملا تو مجھے پہلا خیال اپنے بچوں (یعنی پودوں ) کا آیا کہ ان کا خیال کون رکھے گا۔ لہذا میں سوشل میڈیا کے ذریعے رہائشیوں کے ساتھ رابطہ کیا انہیں کہا کہ وہ پودے اور درخت لے لیں جو میں مفت فراہم کر رہا تھا۔  میں چاہتا تھا کہ میرے بچے (پودے) ایک اچھے گھر میں جائیں۔ میں بہت خوش ہوں کہ میں اس مقصد میں کامیاب ہوا۔ دبئی بھر سے لوگ پودے اور درخت لینے کے لیے آئے۔ اب میں مطمئن ہو کر ملک چھوڑ سکتا ہوں”۔

Image Credit: Gulf News

خیال رہے کہ راجندر نے متحدہ عرب امارات میں غف یعنی جنڈ درختوں کو اگانے کے حوالے سے مہم شروع کر رکھی تھی۔

ہزاروں غف یا جنڈ درخت عطیہ کر دینے کے بعد اب راجند بھارت واپس جا کر راجھستان میں اپنی 20 ایکٹر زمین پر ارگانک فارمنگ شروع کرنا چاہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ وہ دہلی میں ٹیرس گارڈنگ بھی سکھائیں گے۔

یو اے ای میں راجندر نے کئی سالوں تک لوگوں کو باغ بانی سکھانے کے لیے کئی ورکشاپس منعقد کیں۔

اپنی نوکری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے راجندر کا کہنا تھا کہ”نوکری کا چلے جانا ایک کوئی اچھی بات نہیں ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ میرے ملک میں خدا کے میرے لیے کچھ اور منصوبےہیں۔ اور میرے خیال میں اب اپنا شوق پورا کرنے کا وقت آگیا ہے”۔

Source: Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button