متحدہ عرب امارات

پاکستان ایسوسی ایشن دبئی کا احسن اقدام، 71 قیدیوں کی رہائی اور وطن واپسی کا انتظام کردیا

ان قیدیوں کی رہائی کے لیے پی ڈی اے نے ان کے معمولی جرمانوں کے ادا کیے اور اپنے وطن واپس جانے کے لیے ٹکٹوں کا انتظام کیا گیا۔

 

خلیج اردو آن لائن:

پاکستان ایسوسی ایشن دبئی (پی اے ڈی) کے انسانی ہمدردی کی بنیادوں اٹھائے گئے اقدام کی بدولت عجمان کی سنٹرل جیل میں قید 71 قیدی اب اپنے وطن واپس جا پائیں گے اور اپنے خاندان سے مل پائیں۔

ان قیدیوں کی رہائی کے لیے پی ڈی اے نے ان کے معمولی جرمانوں کے ادا کیے اور اپنے وطن واپس جانے کے لیے ٹکٹوں کا انتظام کیا گیا۔

پی اے ڈی کے کمیونٹی ویلفیئر کے ڈائریکٹر رضوان فینسی نے نجی خبر رساں ادارے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ اس وقت مختلف ممالک کے قیدیوں کے کورونا ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں اور ان کی رپورٹ منفی آںے کے بعد وہ اپنے اپنے ممالک جا سکیں گے۔

رضوان فینسی کا مزید کہنا تھا کہ” چونکہ پی اے ڈی پاکستانیوں سمیت دیگر ممالک کے باشندوں کی مدد کرتی ہے اس لیے ہم نے پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے 37 افراد کو رہا کروانے میں کامیاب ہوئے ہیں”۔

رہا کروائے جانے والے 71 قیدیوں میں 6 کا تعلق بھارت، 6 کا تعلق ایتھوپیا اور 13 کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے۔ جب 4 کا تعلق ایران، عراق اور کمیرون سے تعلق رکھنے والے ایک ایک قیدی، چار کا تعلق نیجریا اور 2 کا تعلق صومالیہ سے ہے۔

پی اے ڈی کے جنرل سیکرٹری محسن البنہ نے بتایا کہ ایسوسی ایشن کی طرف سے یہ پہلا ایسا کام نہیں ہے بلکہ وہ گزشتہ کچھ سالوں سے قیدیوں کی رہائی کے پروگرام میں شرکت کرتے رہے ہیں۔

البنہ کا مزید کہنا تھا کہ”ہم اپنے معاشرے کی طرف سے فراموش کیے جا چکے افراد کی مدد کر کے فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہم ہر سال اپنے ہم وطنوں سمیت دیگر ممالک کے افراد کی بھی مدد کرتے ہیں۔ ہم معاشرتی روادری اور ہم آہنگی کے اصولوں پر کام کرتے ہیں”۔

اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے والے بہت معمولی جرائم جیسا کہ غیر قانونی کام کرنے یا باؤنس چیک کے الزام میں ملوث تھے۔

حسن البنہ نے مزید بتایا کہ ایسوسی ایشن کورونا وبا میں مالی طور پر متاثر ہونے والے کم آمدنی والے افراد کی مدد بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ” اپریل سے اب تک مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگوں کو کھانے کے پینے کا سامان تقسیم کیا جا چکا ہے۔ اس کے بعد ہم نے مئی میں ٹیک کیمپین شروع کی جس میں 71 خاندانوں میں لیپ ٹاپ اور آئی پیڈز تقسیم کیے تاکہ ان کے بچے آن لائن تعلیم جاری رکھ سکیں”۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button