متحدہ عرب امارات

فیس ماسک کی آئن لائن فروخت سے حاصل ہونے والی رقم دہشت گردی کے لیے استعمال ہو سکتی ہے، یو اے ای حکام کی وارننگ

 

خلیج اردو آن لائن:

متحدہ عرب امارات کی جانب سے انتہا پسندی کے خلاف عالمی اتحاد کی سپورٹ کے لیے بنائے گئے صواب نامی سنٹر کی جانب سے سے ایک ٹوئیٹ میں کہا گیا ہے کہ” جہاں دنیا کورونا وائرس سے نکلنے کے لیے کوشاں ہے وہیں داعش کے ممبران دہشت گردی کی مالی اعانت کے لیے ماسک فروخت کرنے کے بہانے سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹ بنا رہے ہیں۔ وہ دنیا کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا تے ہیں، انکی کوئی اخلاقی یا مذہبی اقدار نہیں ہیں”۔

سواب کے اہلکاروں نے رہائشیوں کو دہشت گردی کے لٹریچر کو فروغ دینے والی ویب سائٹس پر کلک کرنے سے باز رہنے کی ہدایت کی ہے۔ سواب کا مزید کہنا تھا کہ” اپنے خونی پراپیگینڈہ کے ذریعے انتہا پسند، لوگوں کو معصوم لوگوں کو قتل کرنے لیے برین واش کرتے ہیں۔ انتہا پسندانہ نظریہ عقل سلیم سے متصادم ہے جو ہم بطور انسان ایک دوسرے کے ساتھ بانٹتے ہیں”۔

مزید برآں، سواب سنٹر نے تنبیہ کی ہے کہ سوشل میڈٰیا ایک کھلا میدان بن چکا ہے اور اس پر شائع ہونے والی بیشتر معلومات کی جانچ پڑتال یا تفشیش نہیں کی جاتی ہے۔ بہت ساری کہانیاں گھڑی جا سکتی ہیں اور سوشل میڈٰیا پر پھیلائی جا سکتی ہیں۔

سواب سنٹر کی جانب سے والدین کو بھی ہدایت کی ہے وہ اپنے بچوں کو آن لائن دہشت گردوں سے بچائیں۔ سواب کی جانب سے کہا گیا کہ”بچے ایک محفوظ زندگی کے مستحق ہیں جو انکی معصومیت کو محفوظ رکھے،اس خوف انتہا پسندی سے دور جو داعش اور اس طرح کی دیگر تنظیمیں پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں”۔

اپنے حالیہ آگاہی پیغام کے دوران سواب سنٹر نے لکھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد سے شدت پسند سرگرمی سے نئے افراد کی بھرتی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ اور نوجوان انکا سب سے بڑا ہدف ہیں۔ کیونکہ نوجوان زیادہ وقت آن لائن گزارتےہیں۔

واضح رہے کہ سواب سنٹر کی جانب سے حال ہی میں ہیومینٹٰی کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ایک آگاہی مہم شروع کی گئی ہے۔ جس میں امید کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اور سماجی کارکنوں کو معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے” سماجی کارکنان کے بغیر داعش کے خلاف جنگ مشکل ہوتی”۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button