
(خلیج اردو ) سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نےمسلہ فلسطین فوری حل کرنے کے سلسلے میں امریکی صدر سے رابطہ کیا ہے اور کہا کہ سعودی عرب 2002 میں امن کے لئے کئے گئے فیصلوں پر قائم ہے ۔
سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا مگر متحدہ عرب امارات کی جانب سے امن کی خاطر کئے گئے معاہدوں پر امریکہ کے کردار کو سراہا ۔ سعودی عرب کے بادشاہ نے امریکی صدر کو یاد دلایا کہ مسلہ فلسطین کا فوری حل اسرائیل اور مسلمان ممالک کے تعلقات بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔
سعودی حکام کی جانب سے کہا گیا ہے فلسطین مسلے کا حل اور 1967 جنگ میں اسرائیل کی جانب سے قبضہ کئے ہوئے علاقے واپس کرنے سے اسرائیل سے عرب ممالک کے سفارتی تعلقات استوار ہوسکتے ہیں ۔
یاد رہے کہ سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے امن معاہدے کے بعد اپنی ہوائی حدود اسرائیلی پروازوں کے لئے کھول دی ہے ۔ شاہ سلمان کے بیٹے اور ولی عہد محمد بن سلمان کی بھی امریکی حکام سے بات چیت ہوئی جس کی مسلہ فلسطین کے حل پر زور دیا گیا اور عرب ممالک کی جانب سے کئے گئے مطالبات کی منظوری پر بات چیت ہوئی ۔
متحدہ عرب امارات مصر اور اردن کے بعد تیسرا عرب ملک ہے جنہوں نے اسرائیل سے سفارتی سطع پر تعلقات استوار کئے ہیں ۔
Source :Khaleej Times






