خلیج اردو: دبئی میں ایک 57 سالہ شخص نے تین سالہ لڑکے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، جسے بدھ کے روز عدالت پیشی پر پانچ سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ دبئی کورٹ آف فرسٹ انسنس نے بھی جیل کی مدت ختم ہونے پر ایشین ڈرائیور کو ملک بدر کرنے کا حکم بھی دیا۔
16 جولائی کو البرشہ پولیس اسٹیشن میں بچے کی والدہ نے مدعا علیہ کیخلاف رپورٹ درج کروائی وہ بت پریشان اور زاروقطار روتے ہوئی بولی کہ ملزم اس کی نوکرانی کا شوہر تھا جو بچوں کو نرسری چھوڑ آیا کرتا تھا۔ اسلئے میں نے اسکو کہا کہ میرے بیٹے کو بھی نرسری چھوڑ آیا کرو”
شکایت سے ایک ہفتہ قبل ، بچے کی ماں نے پڑوسیوں کو یہ کہتے سنا کہ مدعا علیہ نے کئی بچوں کیساتھ جنسی ہراسانی کی کوشش کی ہے۔ پولیس افسر نے بتایا ، "بعد میں بچے کی ماں اپنے بیٹے کی باتیں سن کر حیران رہ گئی جب وہ معصومیت سے وہ سب بیان کررہا تھا جو کچھ اس ڈرائیور نے بچے کیساتھ اس کمرے میں پڑے صوفے کے اوپر لیٹے ہوئے کیا جس پر اس نے فورا ہی پولیس اسٹیشن میں مدعا علیہ کے خلاف شکایت درج کی۔”
متاثرہ لڑکے کی والدہ نے تفتیش کار کو بتایا کہ اس کے بیٹے نے اسے بتایا کہ وہ مرنا چاہتا ہے اور اسے گھر کے اس رہائشی کمرے اور اس میں پڑے صوفے سے نفرت ہے۔ "انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مدعا علیہ کو پسند نہیں کرتے ہیں۔” مدعا علیہ کا مجرمانہ ریکارڈ کا حامل ہے۔
تاہم اس فیصلے پر عدالت کیجانب سے اپیل کی گنجائش دی گئی ہے۔
Source: Khaleej Times







