خلیج اردو
05 اکتوبر 2020
شارجہ: پاکستان میں کینسز کا علاج کرنے والے شوکت خانم میمورل کینسر اسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر کیلئے یوں تو عطیات کی فراہمی کوئی نئی بات نہیں، لوگ لاکھوں میں عطیات فراہم کرتے ہیں لیکن شارجہ میں شارجہ کے حکمران اور سپریم کونسل کے ممبر عزت مآب ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی کے بیوی شیخہ جواہر بنت محمد القاسمی جو دی بگ ہارٹ فاؤنڈیشن اور فرینڈز آف کینسر پیشنٹ کے شاہی پورشن کی بانی ن شوکت خانم پشاور کیلئے 4.4 بیلین درہم عطیہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ وہ شوکت خانم کیلئے پہلی مرتبہ سرجیکل اونکالوجی سروسز کا آغاز کرے گی۔
&
nbsp;
امیرا کی جانب سے عالمی فنڈ جو فرینڈز آف کینسر پیشنٹس ایف او سی پی اور دی بگ ہارٹ فاؤنڈیشن ٹی بی ایچ ایف کے اشتراک سے قائم ہے، اب شوکت خانم کیلئے اس سے دو آپریٹن روم قائم کیئے جائیں گے جس میں اس سال دسمبر تک شاندار الات نصب ہوں گے۔
جراحی کے ان الات سے انتہائی اعلی معیار کی 2500 کینسر مریضوں کے علاج کی توقع ہے۔ اس سال امیرا شیخ نے لاہور کے شوکت خانم اسپتال کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے انسانی خدمات فراہم کرنے والے دیگر افراد سے ملاقات کی تھی۔
شوکت خانم اسپتال کے سی ای او ڈاکٹر فیصل سلطان نے امیرا شیخ کی جانب سے اس عطیہ کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ شوکت خانم اسپتال پشاور ان ہزاروں کینسر مریضوں کیلئے امید کی کرن ہے جو علاج کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ہم ہر بڑے یا چھوٹے عطیہ کی قدر کرتے ہیں کیونکہ یہ ہمارے مریضوں کیلئے امید کی کرن ہے۔
امیرا فاؤنڈیشن جس کی بنیاد شیخ امیرا نے رکھی ہے دنیا بھر میں کینسر مریضوں کیلئے عطیات فراہم کرتی ہے۔
ایف او سی پی کی بورڈ آف ڈائریکٹر سوسان جعفر نے کہا ہے کہ امیرا کا حالیہ منصوبہ شوکت خانم کی صلاحیت بڑھائے گا۔
شوکت خانم کیلئے جاری منصوبہ شارجہ کی جانب سے انسانیت کی خدمات کے اس کلچر کا حصہ ہے جس میں وہ دنیا بھر میں انسانوں کیلئے خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
ٹی بی ایچ ایف میں ڈائریکٹر مریم آل حمادی نے کہا ہے کہ ہماری کوششیں انسانی حقوق اور انسانیت کی خدمت کیلئے ہے اور اس میں ہم جنس ، مذہبی اور علاقے کا فرق نہیں کرتے۔
Source : Khaleej Times







