عالمی خبریں

بنگلہ دیش میں جنسی زیادتی کے واقعہ کے بعد احتجاج، جنسی زیادتی کے مجرموں کو سزائے موت دینے کے لیے قانون سازی پر غور

 

خلیج اردو آن لائن:

بنگلہ دیش میں سوشل میڈیا پر  خاتون کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اس ہفتے ملک بھر میں شدید احتجاج شروع ہوگئے تھے، جس کے بعد ایک حکومتی وزیر جمعے کے روز بیان دیتےہوئے کہا ہے کہ حکومت ریپ کے مجرموں کو سزائے موت دینے کے لیے قانون سازی کرے گی۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اس کی وزارت ریپ سے متعلق قوانین میں ترمیم کے لیے مسودہ تیار کر رہی ہے، جس میں ریپ مجرمان کے لیے سزائے موت بھی شامل ہے۔ اور یہ مسودہ پیر کے روز کیبنیٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں اس وقت ریپ کے مجرموں کے لیے سخت سے سخت سزا عمر قید ہے۔ تاہم، سزائے موت کی حالیہ بحث کو لے کر انسانی حقوق کے کارکنوں کے کہنا ہے کہ حکومت چاہیے کہ قوانین کو مزید سخت بنانے کی بجائے موجودہ قوانین پر نفاذ یقینی بنانا چاہیے۔

بنگلہ دیش میں ریپ کیسز کی شرح کیا ہے؟

انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے مطابق بنگلہ دیش میں اس سال کے پہلے 9 مہینوں کے دوران ملک بھر میں 950 خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ گزشتہ سال بھی کم و بیش یہی اعداد و شمار تھے۔

اور کہا  جاتا کہ ہے حقیقی کیسز اس سے بھی زیادہ ہیں کیونکہ بیشتر خواتین جنسی زیادتی کے مقدمات درج کروانے میں ہچکچاتی ہیں۔

بنگلہ دیش میں ان دنوں احتجاج کیوں ہو رہے ہیں؟

سوشل میڈیا پر خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کی ایک ویڈیو وائرل ہونےکے بعد بنگلہ دیش شہر ڈھاکہ اور دیگر شہروں میں ہزاروں لوگ احتجاج کے لیے سڑکوں پر آ گئے، جن کا مطالبہ تھا کہ مجرموں کو گرفتار کیا جائے اور حواتین کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

جس کے بعد ملک کے ہیومن رائٹس کمیشن  کی جانب سے کی گئی تفتیش کے سے پتہ چلا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون کوئی کئی بار ریپ کیا گیا ہے اور دھمکیاں دی گئی ہیں۔

اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس اب تک ویڈیو سے تعلق رکھنے والے 10 مشتبہ افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button