خلیج اردو آن لائن:
متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امد معاہدہ ہونے کے بعد یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان دو طرفہ تجارت آغاز ہوگیا ہے۔ پیر کے روز متحدہ عرب امارات سے تجارتی اشیاء لے کر پہلا بحری جہاز اسرائیل کی حیفہ پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ہے۔
ایم ایس سی پیرس نامی یہ بحری جہاز لوہا، آگ بجھانے والے آلات، صفائی اور الیکٹرونکس کا تجارتی مال لے کر اسرائیل کی سب سےبڑٰی بندرگاہ پہنچا ہے۔ حیفہ پورٹ کا مزید کہنا ہے کہ یہ جہاز ہر ہفتے یو اے ای سے اسرائیل کے لیے تجارتی مال لیجایا کرے گا۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان حالات نارمل ہونے کے بعد پہلے سال ہی میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت 4 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
دبئی کی جیبل علی بندرگاہ سے چلنے والا یہ بحری جہاز 15 دنوں میں اسرائیل پہنچا ہے۔
مزید برآں، حیفہ پورٹ پر بورڈ چیئر مین ایشل آرمونی کا کہنا تھا کہ ” یہ مشرق وسطی میں ایک نئے دور کا آغاز ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس سے تجارت میں مزید اضافہ ہوگا”۔
خیال رہے کہ آج ہی کے روز شیخ النہیان اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے دونوں رہنماؤں درمیان معلاقات کا عندیہ دیا گیا ہے۔
Source: Khaleej Times







