پاکستانی خبریں

نواز شریف غدار نہیں ، عمران خان کے بیانات غداری کے زمرے میں آتے ہیں، مریم نواز

خلیج اردو
13 اکتوبر 2020
اسلام آباد: پاکستان میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس نے حکومت کے خاتمے کی حتمی تاریخ جنوری کی دی ہوئی ہے تاہم صورت حال دیکھ کر کہوں گی کہ جنوری سے بہت پہلے ان کا کام تمام ہو جائے گا۔

ایک نجی ٹی وی پر انٹرویو میں مریم نواز نے کہا کہ میرے والد میاں محمد نواز شریف نے اپنی تقریروں میں جو سوالات پوچھے ہیں ان کا جواب انہیں غدار کہہ کر نہیں دیا جا سکتا۔ میری خاموشی پر سوال اٹھانے والوں کو جواب ہے کہ جو لوگ زبان بندی کراتے ہیں اب ان کی خاموشی کا وقت آنے والا ہے۔ مریم نواز جو کرسکتی ہے وہ انشااللہ کریگی مریم نواز کو خاموش کرنے والے انشااللہ خود خاموش ہوجائینگے۔

حکومت سے مذاکرات بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں مریم نواز نے بتایا کہ وہ اس حکومت کو حکومت سمجھتی ہی نہیں۔یہ حکومت حکومت کہلانے کی اہل نہیں ہے۔ اس کو حکومت یا منتخب حکومت کہنا، منتخب ہونے اور عوامی نمائندوں کی توہین ہے۔ میں نے اس کو کبھی حکومت نہ سمجھا، نہ عمران خان کو وزیرِ اعظم کہا، نہ دل سے سمجھا دراصل نہ یہ آئینی حکومت ہے اور نہ یہ منتخب ۔بات پاکستانی عوام سے ہی ہوگی عوام ہی سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر ہیں
جو اسٹیک ہولڈر سسٹم میں ہیں ان سے بات چیت میں نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کی یا میری کسی کے ساتھ کوئی خفیہ ملاقات نہیں ہوئی یہ بہت اچھا فیصلہ ہے کہ کسی کی کسی کیساتھ کوئی ملاقات نہ ہو اور پارٹی کا بھی یہی فیصلہ ہے۔

نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق سوال پر مریم نواز نے کہا کہ میاں نواز شریف واپس ضرور آئینگے لیکن اپنا علاج مکمل ہونے کے بعد
پارٹی کا فیملی کا اور ن لیگ کے ووٹرز سپورٹرز کا یہ فیصلہ ہے کہ جب تک میاں صاحب کا علاج مکمل نہیں ہوجاتا میاں صاحب واپس نہیں آئینگے۔ جب میاں نواز شریف لندن گئے تو صبح شام اسپتال جاتے تھے اسکے لیے اسپتال میں داخلہ ضروری نہیں تھا جب انکی ہارٹ سرجری ہوگی تو وہ داخل بھی ہوجائینگے۔

مریم نواز نے میاں نواز شریف کی جب جیل میں طبیعت زیادہ خراب ہوگئی تو انکے ہاتھ پیر پھول گئے اسپتال سرکاری ڈاکٹرز کا بورڈ سرکاری ملازم انکی ہیلتھ منسٹر یاسمین راشد لیبارٹریاں بھی انکی رزلٹس بھی انکے تو پھر انکو بھیجنا انکی مجبوری بن گیا۔ میاں نواز شریف کو اس حکومت نے ہمدردی میں باہر نہیں بھیجا بلکہ اپنے آپکو بچانے کیلئے بھیجا کیونکہ انکو پتہ تھا کہ اگر میاں صاحب کو کوئی خطرہ لاحق ہوگیا تو یہ بچ نہیں پائیں گے۔

صحافی عاصمہ شیرازی نے جب پوچھا کہ کیا کیا مسلم لیگ (ن) کو ‘کہیں سے شے مل رہی ہے تو اس پر مریم نواز نے جوابی سوال پوچھا کہ ‘اگر مسلم لیگ (ن) کو کہیں سے آشیرباد ہوتی تو کیا وہ اس طرح جدوجہد میں اتر جاتی؟ ہمارا تو مطالبہ یہی ہے کہ ادارے اپنے آپ کو سیاست میں نہ ملوث کریں۔ ادارے بہت مقدس ہیں اور انھیں مقدس رہنا چاہیے۔

مریم نے کہا کہ میاں نواز شریف پر جو غداری کا الزام لگا ہے وہ اُن پر تو ثابت نہیں ہوگا لیکن الزام لگانے والوں پر خود ثابت ہوگا۔ پاکستانی فوج کے بارے میں اور پاکستانی فوج کے اوپر جو اس شخص نے ماضی میں الزامات لگائے ہیں اور جو بطورِ وزیرِ اعظم بھی انھوں نے ایک دو بیان دیے ہیں غداری کے زُمرے میں تو وہ آتے ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ سی سی پی او لاہور نے نواز شریف کے خلاف پرچہ کاٹنے سے قبل وزیرِ اعظم کے دفتر سے اجازت لی تھی۔پرچہ درج کروانے والا خود ایک تحریکِ انصاف کا کارکن ہے اور اس کا مجرمانہ ریکارڈ ہے۔

انہوں نے کہا ہمارا بیانیہ اسٹیلبشمنٹ کے خلاف نہیں بلکہ ‘حدود سے تجاوز کرنے’ کے خلاف ہے۔ میاں نواز شریف کا بہت واضح مؤقف ہے کہ جو تاثر بنا دیا جاتا ہے کہ کوئی بیانیہ اداروں کے خلاف ہے، ایسا نہیں ہے۔ مؤقف یہ ہے کہ ہر ادارے کو اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے جو آئین میں متعین ہے۔

اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے متعلق استعفوں کے آپشن سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں مریم نے جواب دیا کہ استعفے دینے پڑے تو استعفے بھی دیں گے۔ پی ڈی ایم وقت کی ضرورت ہے جس راستے پر ملک چل پڑا ہے اسکو روکنا ضروری ہے عوام اب اپوزیشن کیساتھ نکلے گی۔

یاد رہے کہ پاکستان کی حزبِ اختلاف کی بڑی جماعتوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ پی ڈی ایم کے نام سے ایک حکومت مخالف اتحاد قائم کیا ہے۔ تحریک کا آغاز 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ کے جلسے سے ہوگا۔ 18 اکتوبر کو کراچی میں مظاہرہ کیا جائے گا ۔ 25 اکتوبر کو کوئٹہ میں جلسہ متوقع ہے۔

Source Aaj TV Degital

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button