خلیج اردو
16 اکتوبر 2020
دبئی: متحدہ عرب امارات میں رہتے ہوئے قانون سے اگاہی کسی غنیمت سے کم نہیں۔جہاں قانون سے اگاہی آپ کو مشکلات سے بچاتی ہے وہاں بہت سی آسانیوں کے بارے میں بھی بتاتی ہیں۔
خلیج ٹائمز سے پوچھے گئے ایک شہری کے سوال کے جواب میں موجود جواب تمام ان افراد کیلئے مفید ہے جو متحدہ عرب امارات میں پارٹ ٹائم جاب کے خواہشمند ہیں۔
سوال : میں ایک بزرگ شہری ہوں۔ میرے پاس نہ صرف دبئی کا رہائشی ویزہ ہے بلکہ ورک پرمٹ بھی موجود ہے اور مجھے وزارت انسانی وسائل اور امریٹائزیشن کی جانب سے کام کی اجازت بھی ہے۔ کیا کوئی لمٹ موجود ہے جس کو دیکھتے ہوئے اس سے زیادہ کمائی سے مجھے تجاوز نہیں کرنا چاہیئے؟ ایسے صورت میں جب میرا ارباب مجھے تنخواہ نہیں دے رہا کیونکہ میں اوورٹائم سے زیادہ پیسے کمارہے ہیں۔
خلیج ٹائمز : آپ کے سوال کے جواب سے میں فرض کرتا ہوں کہ آپ کے بنیادی ارباب اور جس کے ساتھ آپ پارٹ ٹائم کام کرتے ہیں وہ دونوں دبئی میں موجود ہیں۔ اس صورت میں وفاقی قانون کے ریگولیٹنگ امپاورمنٹ ریلیشن کے قانون نمبر 8 آف 1980 اور منسٹریل ڈیکری نمبر 31 آف 2018 یہاں لاگو ہوتا ہے۔
ایسی صورت میں کوئی زیادہ لمٹ اپلیکیبل نہیں ہے۔ ملازم اور ارباب دونوں کو قانون کا احترام کرنا چاہیئے اور اس پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔ کسی بھی صورت میں ملازم کا کوئی بھی فائدہ اس کا ذاتی فائدہ ہوتا ہے اور اس پر اس کے ارباب کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ یہ ملازمت کے قانون نمبر 7 کے مطابق ہے۔
آپ اپنے ارباب کے ساتھ ہوئے معاہدے کی ہر فائدہ کیلئے اہل ہیں۔ آپ کا ارباب آپ کو تمام مراعات دینے کا پابندی ہے۔ اگر آپ ان کے ساتھ مقررہ گھنٹوں پر مبنی کام کررہے ہیں تو آپ کا حق ہے کہ تمام مراعات آپ کو دیئے جائیں۔
Source : Khaleej Times







