
خلیج اردو
پاکستان کے معروف کرکٹر وسیم اکرم کی اہلیہ شنائرہ اکرم کا انٹرویو لینے سے جب خلیج ٹائمز کی ٹیم سے شنائرہ ملی تو انہوں نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ ایک دن میں یہ انٹرویو اردو میں کریں گے۔
مجھے یہ بتانا ہے کہ میں کوکنگ کر سکتی اور چائے کا کپ بھی بنا سکتی ہوں۔ میں اردو سمجھ سکتی ہوں لیکن یہ اعتماد کی بات ہے کہ آپ کسی زبان کو بولتے ہیں تو آپ کو جس اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے وہ لازمی ہے۔ اردو میں بولنے کی کوشش کرتے ہوئے انہوں نے گوری کو گھوڑی کہا اور بولی کہ میں یہ کہتے ہوئے بات ختم کر دیتی ہو کہ میں گوری ہوں اور پھر لوگ ہنستان شروع کر دیتے ہیں۔
شنائرہ اکرم نے 8 سال پہلے کراچی میں مستقل سکونت کا فیصلہ کیا جب انہوں نے لیجنڈری کرکٹ وسیم اکرم سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ دونوں کی ملاقات میلبرن میں 2011 میں ہوئی اور کچھ مہینوں کے بعد انہوں نے شادی کا فیصلہ کیا۔
دوسرے ملک جاکر نیا کلچر اپنانا ایک چیلنج سے کم نہیں تھا۔ مگر شنائرہ نے یہ ممکن بنایا اور اپنے اخلاق اور رویے سے پاکستانیوں کے دل جیت لیے ۔ اب بہت سے پاکستانی انہیں وسیم اکرم کی بیگم کے ساتھ ساتھ شنائرہ کے طور پر بھی جانتی ہے۔
شنائرہ کا کہنا ہے کہ وہ دو بچوں کی ماں ہے اور ان کی دیکھ بال کے ساتھ گھر کے کام کرتی ہوں۔ میں اپنے بچوں کو اور میرے میرے بچے مجھے کافی پیار کرتے ہیں اور ہم ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔
شنائرہ کا سب سے بڑا ہتھیار مثبت سوچ ہے۔ شنائرہ نے اپنے دل کے قریب رہے کافی کازز میں حصہ لیا۔ وہ کئی مقاصد اور خیراتی کاموں میں پیش پیش رہی ۔ انہوں نے بینائی سے محروم ایسے افراد کا اعلاج کیا جن کا اعلاج ممکن ہوتا ہے اور اس حوالے سے اگاہی مہمات چلائے۔ انہوں نے 16 سے 18 لڑکیوں کو اس قابل بنایا کہ وہ دیکھ سکیں۔
جب ان کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا اور انہوں نے ممکن بنایا کہ وہ زندگی میں اعتماد پا سکیں۔ ان کے علاج پر اتنا خرچہ نہیں آتا مگر اس حوالے سے اگاہی نہیں جس کا بیڑہ شنائرہ نے اٹھایا ہے۔ قابل علاج بینائی سے محرومی خصوصی طور پر دیہی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ خواتین کو اس قابل بنانا کہ وہ بینائی پاکر معاشرے میں اپنا مقام حاصل کریں، اتنا مشکل نہیں۔
شنائرہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ میں ملک سے باہر ہوں لیکن چونکہ میں دل سے بولتی ہوں تو لوگ میری بات سمجھ لیتے ہیں۔
Source : Khaleej Times







