خلیج اردو
27 نومبر 2020
ابوظبہی: دارلحکومت میں بندرگاہ کی وسعت کے منصوبے کے تحت مینا پلازہ کے انہدام کا عمل مکمل کیا گیا۔ چند سیکنڈوں میں دھماکہ خیز مواد کی مدد سے ایک دھماکہ ہوا اور دہائیوں سے کھڑے ٹاورز زمین بوس کیے گئے۔
انہدام کا یہ عمل بندگاہ کو وسیع کرنے کے منصوبے میں شامل ہے۔ اگرچہ نئے منصوبے اور نئے سائیٹ کی تعمیر کاکام 2007 میں ہی شروع ہوا تھا تاہم مینا پلازہ کے انہدام کا عمل اب جاکر مکمل ہوا۔
اس شہر کے منصوبہ سازوں کے پاس نئے سائیٹ کیلئے بہترین پراجکٹس ہیں جو ایس منصوبے میں نئے ہلچل مچائے گا جہاں یہ مرکز مارکیٹ کو نئی طرح سے ٹرانسفارم کرے گا۔ آج صبح دارالحکومت کے رہائشیوں کو دھماکے کی آواز نے جھجھوڑ دیا۔ دھماکے کے بعد دھول سائٹ کے آس پاس کی بند گلیوں میں پھیل گئی
اس کے باوجود کے منصوبے کے انہدام کے بارے میں کافی تشہیر کی گئی تھی تاہم پھر بھی سوشل میڈیا پر صارفین نے پوچھا کہ یہ کیا ہوا۔ اگرچہ سب پہلے سے حکام نے بتایا تھا کہ آج دھماکہ ہوگا اور اس بارے میں کافی اگاہی بھی دی جا چکی تھی۔
https://twitter.com/john_denn/status/1332176809589415938
مینا پلازہ سے متصل مارکیٹ ایک مصروف جگہ تھیں جسے خریداری کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔
ایران اور افغانستان میں ہاتھوں سے تیار کردہ قالین یہاں فروخت ہوتے تھے۔ پائیدار اور ٹھوس فرنیچر ، جبکہ دوسرے تاجر زائرین کو گلے میں پہنے والے نیکس یہاں پر فروخت کیے جاتے تھے۔ ابتدائی طور پر تاجروں کو بتایا گیا تھا کہ انہیں لازمی طور پر سائٹ خالی کرنی چاہئے اس میں 18 ماہ لگے کہ وہ رضامند ہوتے۔
یوگنڈا سے موم بتی بنانے والی لطیفہ نکیگندا بتا رہی ہے کہ پلانٹ مارکیٹ سے خریداری کرنے سے اب وہ محروم ہوجائے گی۔ 27 سالہ لطیفہ امینہ پنک مارکیٹ میں 9 مہینوں سے کام کررہی تھی۔ اس کا متبادل یہ ہوگا کہ خلیفہ شہر میں شہر کے پار پلانٹ مارکیٹ سے سرزمین پر پل کے اوپر خریداری کی جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ مجھے سمندر کے کنارے چلنا اور غروب آفتاب دیکھنا اچھا لگتا ہے۔







