خلیج اردو آن لائن:
ارجنٹائن کے عالمی فٹبالر ڈیاگو میراڈونا کی وفات پر دنیا بھر میں ان کے مداح سوگوار ہیں۔ اور ارجناٹائن میں ان کے آخری دیدار کے لیے بے تاب ہیں۔ ایسے میں ڈیاگو کی میت کو دفنانے کے لیے تیاری کرنے والے فیونرل ہوم سروس کے تین ملازمین کو ڈیاگو کی میت کے ساتھ سیلفی لینا مہنگا پڑ گیا۔
میڈٰیا رپورٹس کے مطابق سیلفی لینے والے تینوں ورکرز کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ میرا ڈونا جمعرات کے روز 60 سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے وفات پاگئے تھے۔
نوکری سے نکالے جانے والے ورکر کلائڈو فرننڈس نے بونس آئرس کے مقامی ریڈیو اسٹیشن سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے ہے انہیں اور انکے بیٹے کو اسماعیل اور ڈیاگو مولینا کو فیونرل ہوم میں نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔
تصاویر میں کلائیڈو اور اس کے بیٹے کو میراڈونا کی تصویر کے ساتھ مسکراتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔ جبکہ تیسرا ملازم ایک دوسری تصویر میں دیکھا گیا تھا۔
تاہم، میتوں کی آخری رسومات کی تیاری کرنے والے اس پارلر کے مالک نے تینوں ملازمین کو نوکری سے نکال دیا ہے۔
مالک نے ریڈیو اسٹیشن سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان ملازمین کو میراڈوانا کی میت کو آخری رسومات کے لیے تیار کرنے کا کام دیا گیا تھا لیکن انہوں نے ایک میت کے ساتھ "بہت خوب ہے” کا نشان بنا کر تصویر بنائی۔
تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونےکے بعد ورکرز پر تنقید شروع ہوگئی اور میراڈونا کے بہت سارے مداحوں نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔
تاہم، کلائیڈو نے تمام مداحوں سے معافی مانگتے ہوئے کہنا تھا "میرے جذباتی بیٹے نے تصویر کے ساتھ thumbs up کا نشان بنا کر غلط کیا اور میں اس پر تمام افراد سے معافی مانگتا ہوں۔ میں نے میراڈونا کے بھائی اور باپ کے ساتھ کام کیا۔ میں اس کے ساتھ رہا میں اسکی بے عزتی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا”۔
Source: Gulf News







