متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات : کورونا ویکسین محفوظ ہوئے تو بچوں کو بھی لگائے جا سکتے ہیں ، حکام

خلیج اردو
16 جنوری 2021
ابوظبہی : متحدہ عرط امارات میں اس وقت عوام کو دو قسم کے ویکسین لگائے جارہے ہیں۔ ایک کورونا ویکسین سینوفرم اور دوسری فائزر بائیوٹیک ویکسین لوگوں کو لگائی جارہی ہے۔ یہ ویکسین صرف ان لوگوں کو دی جارہی ہے جو 18 سال یا اس سے زیادہ ہوں ۔ تاہم اب حکام کا کہنا ہے کہ اگر ویکسین کے حوالے سے چین میں جاری ٹرائل میں کامیابی ہوئی تو امارات میں 18 سال سے کم بچوں کو بھی ویکیسن پلائے جا سکتے ہیں۔

نیشنل کوویڈ 19 کلینیکل مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرپرسن ڈاکٹر نوال الکعبی نے کہا کہ اگر مناسب اعداد و شمار موصول ہوئے تو موجودہ طے کیے ہوئے اصولوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا 15 سال یا اس سے اوپر کی عمر کے افراد کو یہ ویکسین دی جاسکتی ہے تو ، ڈاکٹر نوال نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر ، ہم صرف 18 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو یہ ویکسین لینے اجازت دیتے ہیں۔

ایسے میں ایک نئی پیش رفت یہ سامنے آئی ہے کہ اسکولوں میں 12 سال سے کم عمر بچوں کیلئے ابوظہبی پبلک ہیلتھ سینٹر اور محکمہ تعلیم و علم کے تعاون سے جی 42 ہیلتھ کیئر کے ذریعہ ان کے تھوک کا پی سی آر ٹیسٹنگ کا کامیاب منصوبہ ثابت ہوا ہے۔چیف ریسرچ آفیسر اور جی 42 ہیلتھ کیئر کے ویکسین پروجیکٹ لیڈر ، ڈاکٹر ولید ظہیر نے کہا ہے کہ تھوک سے پی سی آر کی جانچ کوویڈ 19 کا پتہ لگانے کا تیز اور محفوظ طریقہ ہے اور اس کو مزید ترقی دینے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ جی 42 پروجیکٹ ہے جس میں دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔ ہم اسے ایک بہت ہی کامیاب پروجیکٹ کہہ سکتے ہیں۔ اس سے کورونا وائرس کو کم جارحانہ انداز میں پتہ لگانے میں مدد ملے گی اور کم وقت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کا معائنہ کیا جائے گا۔ ہم دیگر اداروں کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہے ہیں کہ کس طرح اسے اگلے مرحلے تک لے جائیں۔

ڈاکٹر ظہیر نے اشارہ کیا کہ اگلے مرحلے میں 12 سے 18 سال کی عمر کے لوگ شامل ہوسکتے ہیں۔ لیکن ابھی اس کو حتمی شکل نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مختلف عمر کے گروپوں کیلئے تھوک پی سی آر ٹیسٹ کے انتظام کا فیصلہ صحت حکام کرتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ تھوک ٹیسٹ ایک تیز اور محفوظ طریقہ ہے جس میں کورونا وائرس کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس کا استعمال صحت کے ریگولیٹرز پر منحصر ہے۔ وہ یہ فیصلہ کریں گے کہ اسے کب اور کیسے استعمال کیا جائے۔ اسکولوں میں یہ استعمال تعلیم اور صحت کے ذمہ دار مختلف اداروں کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔ ہم نے اسے تیار کیا ہے اور اداروں کے ساتھ مل کر اسے مزید بہتر بنایا جارہا ہے۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button