متحدہ عرب اماراتٹپس

کورونا ویکسین لگوانے والوں کےلیے ابوظہبی میں کونسی رعایات اور فوائد ہیں؟ تفصیلات جانیں

خلیج اردو آن لائن:
متحدہ عرب امارات کی دیگر امارات کی طرح ابوطہبی میں بھی شہریوں اور رہائشیوں کو کورونا ویکسین لگانے کے لیے بڑے پیمانے پر مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
کورونا ویکسین لگانے کا آغاز 4 جنوری سے کیا گیا تھا۔ جس کے بعد سے ہر روز سینکڑوں رہائشی روزانہ کی بنیادوں پر ویکسین لگوا رہے ہیں۔
تاہم ویکسین لگوانے کے ساتھ ساتھ ابوظہبی میں سفری پابندیوں اور قرنطینہ جیسے قوانین سے متعلق رہائشیوں کے ذہن میں بہت سارے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
رہائشی جاننا چاہتے ہیں کہ آیا ویکسین لگوانے بعد بھی انہیں ابوظہبی میں داخلے اور سفر کے لیے اور دیگر ضروریات کے لیے کورونا ایس او پیز پر عمل کرنا ہوگا یا نہیں۔
اس مضموں میں ان تمام فوائد اور رعایتوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا ہے جو آپ کو کورونا ویکسین لگوانے کے بعد ابوظہبی میں حاصل ہوں گیں:

آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ ویکسین لگوانے کے بعد آپ کو آپ فوائد اور رعایتیں حاصل کرنے کے اہل ہیں؟

اگر آپ نے نیشنل ویکسین پروگرام کے تحت ویکسین لگوائی ہوگی اور 28  دنوں بعد کورونا ویکسین کی دوسری خوراک لگوانے کے بعد آپ کی الحسن ایپ پر لفظ E نظر آنے لگے گا۔ اور اگر آپ نے کورونا ویکسین کے تجربات میں ویکسین لگوائی تھی اور مکمل طور پر اس قواعد پر عمل کیا تھا تو آپ کی الحسن ایپ پر سنہری رنگ کا اسٹار نظر آئے گا۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی نشان الحسن ایپ پر نظر آنے کا مطلب ہے آپ ویکسین لگوانے کے بعد ملنے والی رعایتیوں کو حاصل کرنے کے اہل ہیں۔

کیا میں مجھے حاصل ہونے والی رعایتں کھو سکتا ہوں؟
جواب:
ویکسین لگوانے والے تمام افراد کو ہر سات دن کے بعد کورونا کا پی سی آر ٹیسٹ کرواتے رہنا ہے۔ جب تک وہ یہ عمل کرتے رہیں گے انہیں کی الحسن ایپ پر لفظ E اور گولڈن اسٹار نظر آتا رہے گا اور وہ ویکسین لگوانے کے بعد حاصل ہونے والی رعایتوں اور فوائد سے مستفید ہوتے رہیں گے۔

کیا یو اے ای ہی میں سفر کرنے بعد ابوظہبی میں داخل ہونے کے لیے مجھے کورونا کے پی سی آر ٹیسٹ کی منفی رپورٹ دیکھانی ہوگی؟
جواب:
جب تک آپ کی الحسن ایپ پر لفظ E  یا گولڈن اسٹار آ رہا ہے تب تک آپ کو ابوظہبی میں داخل ہونے کے لیے کورونا پی سی آر ٹیسٹ کی منفی رپورٹ نہیں دیکھانا ہوگی۔
اور جب تک آپ کی الحسن ایپ پر E  یا گولڈن اسٹار ظاہر ہو رہا تھا تک آپ کو ابوظہبی میں داخل ہونے کے بعد ہر چوتھے یا 8ویں دن کورونا پی سی آر ٹیسٹ کروانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

ویکسین لگوانے کے بعد ابوظہبی واپس آنے پر مجھے کونسے فوائد حاصل ہوں گے؟
جواب:
آپ ابوظہبی میں داخل ہونے کے لیے تمام ایمرجنسی لائنیں استعمال کرنے کے اہل ہوں گے۔ اور بلا روک ٹوک اور آسانی سے ابوظہبی میں داخل ہو سکیں گے۔

کیا یو اے ای سے بیرون ملک سفر کرنے سے پہلے مجھے کورونا پی سی آر ٹیسٹ کروانا ہوگا؟َ
جواب:
جی ہاں بیرون ملک سفر کرنے سے پہلے آپ کو کورونا پی سی آر ٹیسٹ کروانا ہوگا۔

یو اے ای واپس آنے پر مجھے کورونا ٹیسٹ کروانا ہوگا؟
جواب:
جی ہاں یو اے ای واپس پہنچ کر آپ کو کورونا ٹیسٹ کروانا ہوگا۔
تاہم، اگر آپ گرین لسٹ میں شامل ممالک میں سے کسی ایک ملک سے ہو کر واپس آ رہے ہیں تو آپ کو قرنطینہ نہیں کیا جائے گا تاہم آپ کو قیام کے 6ویں دن کورونا کا پی سی آر ٹیسٹ کروانا ہوگا۔
اور اگر آپ کسی دوسرے ملک سے آ رہے ہیں تو آپ کو 10 دنوں کے لیے قرنطینہ ہونا ہوگا اور 8 وین دن کورونا کا پی سی آر ٹیسٹ کروانا ہوگا۔

اگر میں کورونا ویکسین لگوا چکا ہوں اور کسی ایسے شخص سے مل لیتا ہوں جو کورونا وائرس کا شکار ہے تو کیا ایسے میں مجھے خود کو قرنطینہ کرنا چاہیے؟
جواب:
جی ہاں، ویکسین لگوانے کے بعد بھی اگر آپ کسی کورونا پوزیٹو مریض سے مل لیتے ہیں تو آپ کو 5 دن کے لیے قرنطینہ ہونا ہوگا اور چوتھے دن کورونا کا پی سی آر ٹیسٹ کروانا ہوگا، اور اگر ٹیسٹ منفی آیا ہے تو آپ قرنطینہ ختم کر سکتے ہیں۔

کیا کورونا ویکسین کے تجربات میں حصہ لے کر ویکسین لگوانے والے اور اب منظوری کے بعد ویکسین لگوانے والے افراد میں فرق ہے؟
جواب:
دنوں افراد میں صرف اتنا فرق ہے کے دونوں کی الحسن ایپ پر شناختی علامت مختلف ہوگی، یعنی تجربات میں حصہ لینے والے شخص کی ایپ پر گولڈ اسٹار ہوگا اور نیشنل ویکسین مہم کے دوران ویکسین لگوانے والے کی ایپ پر E کا لکھا ہوگا۔ اور تجربات کے دوران ویکسین لگوانے والے مختلف اوقات میں میڈٰیکل چیک اپ کے لیے جانا ہوگا۔

میں بزنس چلاتا ہوں، اگر میرے ملازمین کو کورونا ویکسین لگتی ہے تو مجھے کوئی فائدہ حاصل ہوگا؟
جواب:
10 جنوری سے ابوظہبی کے سروس سیکٹر میں تمام ملازمین کو ہر 14 دنوں کے بعد کورونا کا پی سی آر ٹیسٹ کروانا ہوگا۔ اور اس کے اخراجات بھی آجر کو خود برداشت کرنے ہوں گے۔
تاہم، اگر کورونا ویکسین لگوا چکنے والے ملازمین کو اس شرط سے چھوٹ دی گئی ہے۔

Source: Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button