خلیج اردو
22 جنوری 2021
دبئی : یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ ہر نئی تبدیلی خواہ وہ مثبت ہو یا منفی ، کو آسانی سے قبول نہیں کرتا اور جب معاملہ صحت کا ہو تو پھر شکوک و شبہات جنم لینا فطری بات ہے۔
متحدہ عرب امارات سمیت پوری دنیا میں کورونا وائرس کی ویکسین سے متعلق لوگوں کے تحفظات تھے لیکن متحدہ عرب امارات کی لیڈرشپ اور نظام صحت پر عوام کے اعتماد کی وجہ سے وہ رہائشی جو پہلے کوویڈ ویکسین لینے کے بارے میں مطمئن نہیں تھے ، اب نہ صرف خود ویکسین لینے کا فیصلہ کر چکے ہیں بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی یہی پیغام دیتے ہیں۔
راس الخیمہ کی رہائشی سارہ خان کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان نے انتظار کیااور کورونا وائرس ویکسین کے سائیڈ افیکٹ کی وجہ سے ویکسین لینے سے کترا رہے تھے لیکن اب کورونا وائرس کے کیسز میض اضافے کے بعد ویکسین لینا ناگزیر ہوگیا ہے اور ہم نے فیصلہ کیا ویکسین لینے کیلئے ڈاکٹر سے مشورہ کرتے ہیں اور جب ہم نے ڈاکٹر سے اس کے مفید ہونے سے متعلق تفصیلی گفتگو سنی تو خاندان سمیت ویکسین لگوائے اور پہلی خوراک ہم نے لی۔ ہمیں دیکھ کر خاندان کے دیگر افراد نے بھی ویکسین لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں ایک ہفتہ سے 3،000روزانہ کی بنیاد پر کوروان کیسز کی تعداد ایک ہفتے سے زیادہ ریکارڈ ہورہی ہے۔ جمعرات کو وزارت صحت اور روک تھام کے مطابق 3،529 کیسز رپورٹ ہوئے۔ تہم صحت یابیون کی شرح بھی زیادہ ہے اور گذشتہ روز 3،901 افراد کورونا سے شفا یاب ہوئے ہیں۔ ایسے میں جب ملک بھر میں ویکسینیشن کی مہم زوروں سے چل رہی ہے ، ماہرین نے کورونا کیسز میں کمی کی امید ظاہر کی ہے۔
دبئی کے رہائشی پریم مہاجن ایک قسم کی الرجی کی وجہ سے کورونا ویکسین کیلئے اہل نہیں ہیں۔ لیکن اس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ اس کے شوہر اور ان نینی جو دو سالوں سے ان کے ساتھ کام کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کو جن کے بارے میں ہم جانتے ہیں وہ حال ہی میں کورونا وائرس سے متائثر ہوئے تھے ۔ اگرچہ ہم نے معمول کی زندگی جینا شروع کیا تھا ارو گھر سے باہر نکلنے لگے تھے لیکن اب زمہ دار شہریون کا مظاہرہ کرکے ایسا کرنا ترک کیا ہے۔
اگرچہ ہم نے اپنی معمول کی زندگی کو باہر جانے سے شروع کیا تھا ، ہم اس بات کو یقینی بنارہے ہیں کہ ہم ذمہ دار رہائشیوں کی طرح برتاؤ کریں۔ ہم تمام حفاظتی پروٹوکول پر عمل پیرا ہیں ، "مہاجن نے کہا۔
ایک اور رہائشی ، سوپریہ سنگھل کا کہنا ہے کہ وہ نئے محلے میں شفٹ ہو گئی ہے لیکن اس نے نئے دوست بنانے سے خود کو روک لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم باہر نکل جاتے ہیں تو ہم اپنے کپڑے تبدیل کرتے ہیں اور خود کو مکمل طور پر صاف کرتے ہیں ۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ وائرس کے نئے تناؤ زیادہ متعدی ہوسکتے ہیں۔ ہم احتیاطی تدابیر اختیار کرتے رہتے ہیں اور اب بھیڑ والی جگہوں میں نہیں جاتے۔ ہم جلد ہی کورونا ویکسین لگانے کے منتظر ہیں۔
برجیل اسپیشیلٹی اسپتال شارجہ میں انٹرنل میڈیسن اسپیشلسٹ ڈاکٹر راجیش کمار گوپتا کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے ویکسین کے بارے میں لوگوں کی پوچھ گچھ میں اضافہ ہوا ہے۔ ہم حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے قائم کیے گئے مراکز میں جانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ مزید افراد ویکسین لگانے کیلئے آرہے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ لوگ اب ویکسین لینے کی ضرورت سے زیادہ واقف ہیں۔ ہر ایک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ویکسینیشن مہم میں حصہ لے کربیماری کے پھیلاؤ کو کم کریں۔
انٹرنیشنل ماڈرن اسپتال دبئی کے پلمونولوجسٹ ڈاکٹر محمد اسلم کا کہنا ہے کہ کوروان ویکسین کے بارے میں لوگوں کے سوالات بڑھ رہے ہیں اور میرے بیشتر مریض یہاں ویکسین کی افادیت کے بارے میں پوچھ رہے ہیں اور اس کے ہونے والے مضر اثرات کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال جو لوگ حفاظتی اقدامات کررہے ہیں وہ جاری رکھیں اور کورونا ویکسین کیلئے اہلیت کی صورت میں اسے ضرور لگوائیں۔
Source : Khaleej Times







