خلیج اردو
24 جنوری 2021
ابوظبہی : متحدہ عرب امارات صحت سے متعلق نظام کو بہتر سے بہترین بنانے کی جانب گامزن ہے۔ مختلف اسپتالوں میں جہاں پیچیدہ اور مشکل بیماریوں کا علا کیا جاتا ہے وہاں حکومتی سظھ پر عوام کو مختلف سہولیات بھی دیئے جارہے ہیں ، ایسے میں صحت سے متعلق کسی بھی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جاتا۔
ایسے میں ایک اسپتال میں ڈاکٹروں اور میڈیکل عملے کی غفلت سے ایک خاتون کے بچہ پیدا ہنوے کے دوران آپریشن میں غفلت اور لاپرواہی سے خاتون کے کوما میں جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے جس پر عدالتی کارروائی کے بعد اسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خاتون اور اس کے شوہر کو 1.3 درہم ہرجانے ادا کریں۔ اپلنٹ کورٹ نے ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اسپتال اور اس کے ڈاکٹر کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ متائثرہ عرب خاتون اور اس کے شوہر کو جسمانی ، اخلاقی ، ذہنی اور مادی نقصانات کے بدلے ہرجانہ ادا کرے۔
سرکاری عدالت کے دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ مریضہ کے شوہر نے سی سیکشن آپریشن کے دوران ڈاکٹر کی جانب سے طبی غفلت برتنے کی وجہ سے ڈاکٹر اور اسپتال کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس میں اس کی بیوی مرنے کے قریب چلی گئی تھی ۔ مقدمے میں کہا گیا تھا کہ ان کی اہلیہ بچے کو جنم دینے اسپتال گئی تھی۔ اسپتال کی جانب سے اسے سنگین بیماری کی کوئی سابقہ تاریخ نہیں تھی۔ جب اسپتال میں عام طریقے سے بچہ پیدا ہونے میں ناکامی ہوئی تو اسپتال انتظامیہ نے آپریشن کرنے کا کہا تھا۔ عام اینستھیزیا کے تحت اس کیلئے سی سیکشن انجام دیا گیا۔ تاہم آپریشن کے اختتام پر خاتون کا دل رک گیا اور وہ کوما میں چلی گئی اور کئی دنوں تک آئی سی یو میں رہی جہاں اسے مشینوں اور گیسٹرک ٹیوب کی مدد سے خوراک فراہم کی جاتی رہی جو کافی تکلیف دہ عمل تھا۔
خاتون کے شوہر نے عدالت کو بتایا کہ اس کے ساتھ جو ہوا اور جو بیوی کو تکلیف ہوئی یہ ڈاکڑوں کی غفلت اور لاپرواہی تھی ، ضرورت سے زیادہ نشہ دینے کی وجہ سے یہ سب ہوا جس کی وجہ سے بیوی ان کی بیوی نہ صرف یہ کہ جسمانی تکلیف سے گزری بلکہ اب وہ نسفیاتی مسائل کا شکار ہے جس بنا پر انہیں بچوں سے دور رکھا جارہا جو میرے لیے اور خاندان کیلئے کافی تکلیف دہ ہے۔
کیس میں میڈیکل ذمہ داری کیلئے سپریم کمیٹی کی میڈیکل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر نے شدید طبی غلطی کی تھی ۔ ڈاکٹر مریضہ کو بے ہوش کرنے کے بعد طبی اصولوں اور قواعد پر عمل کرنے میں ناکام رہا تھا ، جس کا نتیجہ خاتون کی 100 فیصد معذوری کا باعث تھا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر نے متعدد بار مریض کو ریڑھ کی ہڈی کے اینستھیزیا لگانے کی کوشش کی تھی لیکن اس سے اس کا فائدہ نہیں ہوا – ایسے میں ممکن تھا کہ کسی اور اینستھیسیولوجسٹ سے مدد لے کر خاتون کو بچایا جا سکتا تھا لیکن ڈاکٹر نے مدد لینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ جس سے مریض کو دماغ میں آکسیجن کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مدعی مقدمہ خاتون کے شوہر نے مطالبہ کیا تھا کہ ڈاکٹر اور اسپتال مشترکہ طور پر اسے اور ان کی اہلیہ کو جسمانی علاج کے نتیجے میں ہونے والے مادی ، نفسیاتی اور اخلاقی نقصانات کی ادائیگی کریں۔
ابتدائی عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ اسپتال اور ڈاکٹر متائثرہ خاتون کو 1 ملین درہم اور شوہر کو 30000 درہم ادا کرے لیکن اسپتال کی جانب سے اسے چیلنج کیا گیا جس کے بعد اپلنٹ کورٹ نے ماتحت عدالت کا فیصلہ برقر رکھا۔







