خلیج اردو آن لائن:
حال ہی میں دبئی پولیس مقدمات کو حل کرنے کے لیے ایک اور سنگل میل عبور کر لیا۔ پہلی مرتبہ دبئی پولیس قتل کے مبینہ مجرم کی یاداشت میں دیکھ کر قاتل کی شناخت کرنے میں کامیاب ہوگئی۔
اس قتل مقدمے میں حل کرنے کے لیے دبئی پولیس کے فرانزک ڈیپارٹمنٹ نے قتل کے مشتبہ شخص کی کے دماغ میں دیکھنے کے لیے ‘میموری پرنٹ’ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔
یاداشت میں کیسے دیکھا گیا؟
اس مقصد کے لیے ایک ایک جدید مشین کا استعمال کیا گیا جو دماغ میں ابھرنے والی ایسی لہروں کی شناخت کرتی ہے جو اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب کوئی شخص کسی مانوس چیز کی تصویر دیکھتا ہے۔
ان لہروں کو پی 300 کہا جاتا ہے۔ اور جب کوئی شخص کوئی تصویر دیکھتا ہے اور اگر اس کے دماغ میں پی 300 لہریں پیدا ہوتی ہیں اس کا مطلب ہے وہ شخص اس کو دیکھائے جانی والی تصویر کے حوالے سے کوئی یاداشت رکھتا ہے۔
کریمنالوجی ڈٰیپارٹمنٹ کے دائریکٹر اور فرانزک سیکالوجسٹ محمد عیسیٰ الحمادی نے بتایا کہ "اگر مشتبہ شخص کوئی تصویر یا قتل میں استعمال کیا جانے والے کوئی آلہ دیکھتا ہے تو یہ مشین بہت مہارت سے نشاندہی کر سکتی ہے۔ اور یہ میشن پولیس کی مدد کرتی کہ آیا اس شخص کو مقدمے میں مشتبہ ملزم سمجھا جانا چاہیے یا نہیں۔ اور یہ ٹینکیک قتل کے مقدمے میں پہلی بار استعمال کی گئی ہے”۔
مقدمے کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
پولیس کے مطابق یہ قتل ایک گودام میں ہوا تھا جہاں بہت سارے لوگ کام کرتے تھے۔ لہذا ان میں سے کوئی بھی قاتل ہو سکتا تھا۔
اس لیے پولیس نے کچھ ایسے افراد کی شناخت کی جو ممکنا طور پر قاتل ہوسکتے تھے اور پھر دوران تفتیش پولیس نے اس مشین کا استعمال کیا اور مشتبہ افراد کو آلہ قتل دیکھایا گیا۔ اور آلہ قتل دیکھ کر ان افراد میں سے شخص کی دماغ میں پی 300 لہریں بہت زیادہ بڑھ گئیں جس کا مطلب ہے اس آلہ قتل یاد تھا۔
اس میشن کی رپورٹ کے بعد پولیس نے اس شخص سے مزید تفتیشن کی، اور دوران تفتیش ملزم نے اعتراف جرم کر لیا۔
پولیس کا کہنا ہےکہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے فرانزک سائنس کے ماہرین کو ایک سال تک ٹریننگ دی گئی اور اب پہلی بار اس ٹیکنالوجی کو حقیقت میں کسی مقدمے کی تفتیش کے دوران استعمال کیا گیا ہے۔
Soure: Khaleej Times







