خلیج اردو آن لائن:
بدھ کے روز متحدہ عرب امارات کے ایک اعلی عہدیدار کی جانب سے بتایا گیا کہ اس سال کے آغاز میں متحدہ عرب امارات میں کورونا کے خلاف بنائے گئے قواعد و ضوابط کی 30 ہزار خلاف ورزیاں نوٹ کی گئی ہیں۔
نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان ڈاکٹر سیف الدھیری کے مطابق کورونا ایس او پیز خلاف ورزیوں میں سے درج ذیل خلاف ورزیاں سب سے نمایاں تھیں:
ماسک نہ پہننا،
تجارتی مراکز میں احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنا،
عوامی مقامات پر سماجی فاصلہ برقرار رکھنے میں ناکامی،
گاڑیوں میں اجازت سے زیادہ سواریاں بیٹھانا،
اور اجتماعات میں اجازت سے زیادہ افراد کو مدعو کرنا۔
ڈاکٹر سیف کا مزید کہنا تھا کہ "ہم احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں تاکہ اب تک حاصل کیے گئے فوائد کو محفوظ بنایا جائے اور معاشرے کی صحت کی حفاظت کی جا سکے۔ اور تمام متعلقہ حکام ان ایس او پیز کی خلاف ورزیوں کو مانیٹر اور ٹریک کرتی ہیں”۔
مزید برآں، اسی پریس بریفنگ کے دوران بات کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے ہیلتھ سیکٹر کی ترجمان ڈاکٹر فریدہ الحسینی کا کہنا تھا کہ وزارت صحت نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام ویکیسنیشن سنٹروں عارضی طور پر بزرگ اور متعدی بیماریوں میں مبتلا افراد کو ویکسین لگانے کے لیے مخصوص کر دیا جائے گا۔
انکا کہنا تھا کہ بڑھتے ہوئے کورونا کیسز، خاص طور پر بوڑھوں اور بیمار افراد میں بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم انکی حفاظت کریں۔
ڈاکٹر فریدہ کا مزید کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے ٹیسٹوں کا سلسلہ جاری رکھنے ہوئے ہے اور اب تک 27 ملین سے زائد ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
Source: Khaleej Times







