
خلیج اردو
19 مارچ 2021
ابوظبہی : ٹریفک حکام نے فیڈرل نیشنل کونسل ایف این سی نے بتایا ہے کہ ملک میں یکساں حد رفتار لاگو کرنے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ٹریفک حکام کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں موجود حد رفتار اپنی جگہ برقرار رہے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف مقامات پر ٹریفک کا بہاؤ مختلف رہتا ہے اور حدرفتار مقرر کرنا ہر امارات کیلئےٹریفک کے بہاؤ پر منحصر ہوتا ہے۔
منگل کے روز نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ شیخ سیف بن زاید النہیان نے ایف این سی کے ممبران کو بتایا کہ ٹریفک حکام نے گاڑیوں اور ٹریفک کی نقل و حرکت کے مطابق ہر امارات میں روڈ اور ٹریفک انجینئروں اور ماہرین کی تکنیکی رپورٹس کی بنیاد پر مختلف سڑکوں پر رفتار کی حد مقرر کردی ہے جو متعلقہ امارات میں ٹریفک کے بہاؤ پر منحصر ہے۔
شیخ سیف نے کہا کہ لوگوں کی حفاظت سب سے اہم ہے اور یہ ہمیشہ ہماری اولین ترجیح رہی ہے۔ انہوں نے ایف این سی کے ممبر عدنان الحمدی کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں مختلف سڑکوں پر رفتار کی حد کیوں مختلف ہے۔
الحمدادی نے امارات روڈ کی مثال پیش کی ہے اس سڑک پر رس الخیمہ سے دبئی تک کی رفتار مختلف ہوتی ہے اور اس میں جرمانوں میں بھی مختلف مقدار ہوتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کچھ ہائی ویز پر رفتار کی کم سے کم حد رفتار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اجازت دی ہے۔ اگر اس سے رفتار کو یکساں کیا جائے تو اس سے ٹریفک کی روانگی بری طرح سے متائثر ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ مختلف پریشانیوں اور غیرضروری جرمانے سے بچنے کیلئے متحدہ عرب امارات کی تمام سڑکوں پر اسپیڈ سے متعلق بفر زون کو منسوخ کیا جانا چاہیئے۔
متحدہ عرب امارات میں اسپیڈ بفر کا نظام کافی عرصے سے چل رہا ہے اور گاڑیوں کو سڑک کے نشانوں پر لکھے گئے حد سے 20 کلومیٹر فی گھنٹہ زیادہ گاڑی چلانے کی اجازت دی گئی ہے۔
2018 میں ابو ظہبی نے بفر نظام کو ہٹا دیا تھا تاہم یہ دوسرے تمام امارتیوں میں برقرار ہے۔ فیڈرل ٹریفک کونسل کے ڈپٹی چیئرمین ، بریگیڈر حسین الحارتی نے کہا ہے کہ رفتار کی حدود اس طرح طے کی گئی ہیں جو کچھ علاقوں میں معاشی نقل و حرکت اور تجارتی نقل و حمل کے عین مطابق ہے۔
برگیڈیئر حسن نے دبئی کی مثال پیش کی ہے جس میں دیگر امارتوں کے مقابلے میں گاڑیاں بڑی تعداد میں موجود ہیں جن میں متعدد گاڑیاں متعلقہ مقرر لین کے باوجود مختلف سڑکوں پر سفر کرتی ہیں۔
انہون نے کہا کہ دبئی کی سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد متحدہ عرب امارات کی سڑکوں پر کاروں کی کل تعداد کا 48.6 فیصد ہے۔
Source : Khaleej Times







