متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات : کرونا وائرس کو ایک سال مکمل ہوگیا ، پابندیاں اور اثرات کیا ہیں؟

خلیج اردو
24 مارچ 2021
ابوظبہی : گزشتہ سال اسی اثناء میں متحدہ عرب امارات کو بھی عالمی وباء کرونا نے اپنی لپیٹ میں لیا اور اس خطرناک بیماری کو پھیلانے سے بچانے کیلئے متحدہ عرب امارات میں کرفیو نافز کر دی گئی۔ ہم ایک سال کے سفر میں ہونے والے اقدامات اور اس کے اثرات سے متعلق اس رپورٹ میں جانیں گے۔

جب کرونا وباءنے بلارنگ و نسل دنیا کو اپنا نشانہ بنایا اور متحدہ عرب امارات کی قیادت نے بھی یہ مشکل فیصلہ کر ہی لیا کہ ملک کو جانی نقصان سے بچانے کیلئے 24 مارچ کو کرفیو لگائی اورنقل وحمل پر پابندی عائد کی۔

کرونا وباء نے متحدہ عرب امارات کو بھی اپنی گرفت میں لیا اور ملک کے سرکاری اور نجی اداروں اور شعبوں نے ایک ہوکر لائحہ عمل طے کیا کہ کیسے صحت کے بہتر نتائج کیسے لے سکتے ہیں۔

تیز رفتار اور بڑے پیمانے پر کرونا کی ٹیسٹنگ ، سکریننگ ، واک تھرو گیٹس ، سینیٹائزیشن اور ہر حوالے سے صحت کے شعبے میں جدت اور معیار کا خیال رکھتے ہوئے عوام کی مثالی خدمت کے ساتھ ساتھ مختلف کاروباری مراکز کی بندش ، عوام کیلئے گھروں میں رہ کر محفوظ رہنے کی پالیسی سمیت انقلابی اقدامات کیے گئے۔

29 جنوری 2020 کو متحدہ عرب امارات میں کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد اس تعداد میں اضافہ ہوا تو حکومت نے وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے ، کیسز کا جلد پتہ لگانے اور معاشرتی فاصلاتی پروٹوکول پر عمل درآمد کیلئے سخت اقدامات کیے۔

متحدہ عرب امارات کی قیادت نے اس خطرے کی نشاندہی کرنے میں جلدی کی اور سمجھا کہ وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ اور اسکریننگ اور لاک ڈاؤن بہترین حکمت عملی ہوگی۔ اس کے بعد اسکریننگ کا ایک زبردست پروگرام تیار کیا گیا تھا۔

ممکنہ کیسز کی شناخت کیلئے اور جلد صحت یابی کیلئے اسپتال اور اسپتالون میں الگ مراکز اور قرنطینہ کیلئے جگہوں اور بحالی مراکز کو مختصر ترین وقت میں قائم کیا گیا۔

کرونا کی وبا نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور دم بخود پھینک دیا۔ گھر سے کام کرنا اور تعلیم حاصل کرنا ، ملازمت کے اچانک ضائع ہونے کے مسئلے سے نمٹنا ، معاشرتی تنہائی اور کشیدہ صورت حال نے ہانسانی ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کیا۔

ایسے میں مقامی حکام کے عملی جوابی اقدامات نے اس بات کو یقینی بنایا کہ آبادی بڑے پیمانے پر وبائی مرض کا سب سے زیادہ خاتمہ کرنے میں کامیاب رہی ۔ ایسے میں مختلف طریقوں سے انسانی مدد کیلئے کونسلنگ اور ہلپ لائن کا قیام عمل میں لایا گیا جہاں لوگ اپنے مسئال کیلئے مدد لے سکتے تھے۔

2020 کے آخری مرحلے میں محکمہ برائے کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے کرونا وائرس کے بعد کی زندگی کے سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ 44 فیصد شرکاء نے محسوس کیا کہ وبائی بیماری کے آغاز سے ہی ان کی ذہنی صحت متاثر ہوئی ہے جبکہ 38 فیصد نے کہا ہے کہ ان کی نفسیات متائثر نہیں ہوئی اور پہلے کی طرح رہی۔ اہم بات یہ ہے کہ 55 فیصد مرد اور 53 فیصد خواتین نے اپنی ذہنی صحت میں بہتری دیکھی ہے۔

گزشتہ سال کرونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران کاروباری سرگرمیاں متائثر رہیں ، متحدہ عرب امارات کی تنظیموں کو اپنے ملازمین اور ان کی آمدنی کے سلسلے کی حفاظت کیلئے بہت سے چیلنجز کا مقابلہ کرنا پڑا۔

بہت ساری تنظیموں ، کمپنیوں نے اپنی کاروباری حکمت عملی کو مکمل طور پر نئی شکل دی جبکہ دوسروں نے بغیر کسی رکاوٹ کے تجربے کی پیش کش کرنے کے اپنے ڈیجیٹل تبدیلی کے منصوبوں کو تیز کردیا جس کی وجہ سے صارفین کو ملازمین کی حفاظت پر سمجھوتہ کیے بغیر ان تک پہنچنے کا موقع ملا۔ متعدد دیگر افراد نے امداد کیلئے حکومت سے رجوع کیا جو متعدد اقدامات اور محرک پیکجز کی شکل میں سامنے آیا جس نے معاشرے پر وبائی امراض کے اثرات کو کم کردیا۔

متحدہ عرب امارات نے ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام کی تحفظ کیلئے ہر وقت اقدام اٹھایا جو ضروری تھا ۔ اس میں فضائی ، زمینی اور بحری سرحدات کی بندش ، مختلف اہم ایونٹس کی منسوخی ، ملک گیر سظح پر کرونا ویکسین کا سلسلہ شامل ہے۔ جاری ہے

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button