خلیج اردو
25 مارچ 2021
دبئی : بچوں کے حوالے سے عالمی سطح پر یہ بات طے شدہ ہے کہ ان کی غلطی دراصل ان کے والدین کی غلطی ہوتی ہے۔ جیسے مختلف دواؤں کے اوپر لکھا ہوتا ہے کہ اسے بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں ایسے ہی ماہرین کی رائے ہے کہ بچوں سے مختلف کھلونوں کو بھی دور رکھا جائے یا ان کی کھڑی نگرانی کی جائے۔
متحدہ عرب امارات میں پچھلے کچھ سالوں میں بچوں کے مگنٹ بالز یا مقناطیسی گیندوں کو نگلنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ متعدد اسپتالوں میں متعدد کیسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ عجمان کے ایک اسپتال میں تازہ ترین شکار تین سالہ لڑکا ہوا ہے جو اب انتہائی نگہداشت کی وارڈ میں زیرعلاج ہے۔
چھوٹے بچے کو کچھ دنوں سے پیٹ میں درد کی شکایت تھی اور وہ الٹیاں بھی کرتا آیا تھا اور ان کے والدین کو معلوم بھی نہیں تھا کہ بچے نے کوئی میگنٹ بالز نگل لیے ہیں لیکن یہ تب معلوم ہوا جب ان کے والدین نے اسے اسپتال لے جاکر ایکسرا کرایا اور پھر ایکسرے مشین کی مدد سے یہ معلوم ہو پایا۔
ڈاکٹر حیدر نے متنبہ کیا ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی گیندیں اکثر رنگین اور دلکش دیکھتی ہیں لیکن یہ انتہائی خطرناک ہوسکتی ہیں۔ جب اسےکھایا جاتا ہے تو وہ شدید داخلی چوٹ کا سبب بن سکتے ہیں اور یہاں تک کہ بچے کی آنتوں کو کاٹ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک سال میں ان میگنیٹس کے نگلنے کی وجہ سے ہم دو بچوں کو کھو چکے ہیں۔ ان دونوں بچوں کو ہنگامی سرجری اور انتہائی نگہداشت یونٹ میں داخلے کی ضرورت تھی۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ 48 گھنٹے کے عرصہ میں ایک بچے کو دو مختلف آپریشن کرنے کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے اسپتالوں کے اعدادوشمار کے مطابق اکثر بچے ان چھوٹے گیندوں کو ٹافیاں سمجھ کر نگل جاتے ہیں۔
ڈاکٹر حیدر کے مطابق کسی بھی کھلونوں پر ایسے تمام کھلونوں پر پابندی لگانے کی ضرورت ہے جو مگنٹ پر مشتمل ہو ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس طرح کے مقناطیسی کھلونوں کی قیمت 50 درہم سے کم ہے لیکن جسمانی اور نفسیاتی صدمے اور صحت کی دیکھ بھال کے وسائل پر تناؤ بہت زیادہ ہے
ڈاکٹر جمونا نے والدین سے اپیل کی کہ وہ بچوں پر خصوصی نظر رکھیں۔ فطرت کے مطابق بچون کا کھلونا سے پیاری ان کے فطرے میں شامل ہے لیکن ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم خیال رکھیں کے بچوں کو کھیلنے کیلئے کونسا کھلونا لے کر آئے ہیں۔
Source : Khaleej Times







