متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں دوران رمضان لازم قرار دیے گئے قواعد و ضوابط کی مکمل فہرست

 

خلیج اردو آن لائن:

دنیا بھر کے مسلمان مسلسل دوسرا رمضان کورونا وبا کے دوران منائیں گے۔ اور کورونا سے بچاؤ کے لیے بنائی گئی احتیاطی تدابیر کو اپناتے ہوئے اس مقدس مہینے میں اپنی عبادات کریں گے۔

جیسا کہ ماہ رمضان 12 یا 13 اپریل سے شروع ہونے جا رہا ہے۔ اس لیے متحدہ عرب امارات میں تمام امارات کی حکومتوں کی جانب سے کورونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے لیے متعدد نئے قواعد و ضوابط کا اعلان کیا گیا ہے۔ جن پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔

ماہ رمضان کے دوران درج ذیل قواعد پر عمل کرنا ہوگا:

یو اے ای بھر میں عام طور پر درج ذیل احتیاطی تدابیر نافذ رہیں گی:

رمضان کے مہینے کے دوران درج ذیل قواعد و ضوابط پر عمل کرنا ہوگا:

  • نماز تراویح اور نماز عشاء زیادہ سے زیادہ 30 منٹ میں ادا کرنی ہوگی
  • خاص طور پر افطارکے دوران خاندانی اور دوستوں کے اجتماعات سے گریز کیا جائے
  • گھروں اور دوستوں میں کھانا تقسیم کرنے سے گریز کریں
  • صرف ایک ہی گھر میں رہنے والے ایک ہی خاندان کے افراد ایک دوسرے کا ساتھ کھانے کا تبادلہ کر سکتے ہیں
  • ادارے کی یا خاندانی سطح پر افطار ٹینٹوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے
  • مسجدوں کے اندر افطاری کے کھانے کی اجازنہیں ہوگی
  • ہوٹلوں کو اپنی عمارت کے اندر یا باہر افطاری تقسیم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی
  • افطاری کے کھانے کی تقسیم کی اجازت صرف ہاؤسنگ کمپلیکسز میں ہوگی اور اس دوران مینجمنٹ سے تعاؤن کرنا ہوگا اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ہوگا

دبئی میں درج ذیل احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا:

  • بڑے سماجی اجتماعات سے گریز کیا جائے گا
  • رمضان ٹینٹ کے ساتھ ساتھ افطار اور عطیات کے ٹٰینٹ لگانے پر پابندی ہوگی
  • تاہم، احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے مساجد میں نماز تراویح ادا کی جا سکے گی

شارجہ میں درج ذٰیل احتیاطی تدابیر نافذ کی گئی ہیں:

  • افطار ٹینٹوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
  • گروپوں میں افطاری کروانے، ریستورانوں کے باہر، اجتماعات میں، گھروں کے سامنے، مساجد میں، گاڑی میں یا کسی بھی اور ذریعے سے افطاری کا کھانا تقسیم کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
  • افطاری کے لیے اسپیشل آفرز کی تشہیر پر پابندی ہوگی
  • مفت کھانوں کی تقسیم کی اجازت صرف امارات میں تسلیم شدہ خیراتی اداروں کے ذریعے ہی ہوگی۔

عجمان:

  • عجمان میں ماہ رمضان میں تمام رمضان ٹینٹوں کے پرمٹ کینسل کر دیے گئے ہیں
  • افطاری کے کھانے ایک مخصوص مقام پر احتیاطی تدابیر کے ساتھ صرف تسلیم شدہ اداروں کے ذریعے ہی تقسیم کیے جائیں گے
  • ان کھانوں کی تقسیم کا عمل عصر کی نماز کے بعد شروع ہوگا اور مغرب کی نماز سے ایک گھنٹا پہلے ختم کرنا ہوگا۔

راس الخیمہ میں رمضان کے دوران درج ذیل ایس او پیز کا نافذ کیے جائیں گے:

  • ریستورانوں کے اندر یا باہر افطاری کی تقسیم پر پابندی عائد کی گئی ہے
  • مساجد کے باہر افطار ٹینٹ لگانے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے
  • گھروں کے سامنے افطاری کی تقسیم پر پابندی عائد کی گئی ہے
  • لیبر کے رہائشی کمپلیکس میں افطاری کی تقسیم کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا
  • اجتماعات پر پابندی رہے گی
  • رہائشیوں کو دو میٹر کا سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ہوگا

ام القواین:

  • قرآن اور دیگر تحائف کی تقسیم پر پابندی عائد ہوگی
  • ایک دوسرے گھروں میں جانے اور خاندانی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
  • کھانے تقسیم کرنے یا انکا تبادلہ کرنے پر پابندی لگائی ہے
  • افطار اور کمرشل رمضان ٹینٹوں پر پابندی عائد کی گئی ہے
  • لیبر کے رہائشی علاقوں میں صرف مجاز ادارے کی افطاری تقسیم کر سکیں گے
  • مانگنے والوں کی رپورٹ حکام کو کرنے کی ہدایت کی گئی ہے

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button