متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات : آدھے سے زیادہ غیر ملکیوں کو یقین ہے کہ ان کی تنخواہوں میں اس سال اضافہ ہوگا

خلیج اردو
28 مارچ 2021
دبئی : گزشتہ سال کرونا وائرس کی وجہ سے عالمی سطح پر فی کس آمدنی متائثر ہوئی اور اکثر کمپنیوں میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں میں کمی کی گئی۔ متحدہ عرب امارات بھی کرونا وائرس سے متائثر ہوا اور اکثر کمپنیوں نے ملازمین کی تنخواہوں میں کمی کر دی۔ تاہم 2021 کو امید کا سال کہا جارہا ہے اور اس اتوار کو جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے رہائشی دیگر ممالک کی نسبت تنخواہوں کے حوالے سے زیادہ لچکدار تھے۔

2020 اور 2021 میں 64 فیصد اماراتیوں کی تنخواہوں میں کوئی کمی بیشی نہیں آئی جبکہ 46 فیصد غیر ملکیوں کی تنخواہوں میں بھی کوئی کمی بیشی نہیں آئی۔

ادائیگی پر کرونا وائرس کے منفی اثرات کو دیکھتے ہوئے اماراتیوں کے 10 فیصد افراد کی تنخواہوں میں کٹوتی ہوئی جبکہ 21 فیصد تارکین وطن کو اس بدنصیبی کا سامنا کرنا پڑا۔

Hays ایمریٹائزیشن ڈویژن کے اماراتی سنیئر ریکروٹمنٹ کنسلٹنٹ سامنتھا رائیٹ کا کہنا ہے کہ باقی آبادی کے مقابلے میں قومی ورک فورس کو تنخواہوں میں کٹوتی کا سامنا رہا۔ سروے کے ردعمل سے ہم اندازہ لگاتے ہیں کہ 2020 میں متحدہ عرب امارات کے 9 فیصد شہریوں کو بے روزگار بنایا گیا تھا ۔متحدہ عرب امارات کے شہریوں کا پچھلے 12 مہینوں میں ملک میں کام کرنے والے دیگر پیشہ ور افراد کے مقابلے میں کم تنخواہوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اس رپورٹ میں پچھلے 12 ماہ کے دوران تارکین وطن کی 33 فیصد تنخواہوں میں اضافہ ہوا تھا جبکہ 25 فیصد اماراتیوں کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا تھا۔

اس رپورٹ میں ابو ظہبی میں سرکاری شعبے کے اداروں کو متحدہ عرب امارات کے شہریوں کو سب سے زیادہ تنخواہ دینے کی نشاندہی کی گئی ہے جوکہ بعض نجی اداروں کے مقابلے میں 40 فیصد سے زیادہ ہے۔ تاہم دارالحکومت سے باہر سرکاری اور نجی شعبے میں تنخواہیں یکساں یا سرکاری اداروں میں 10 فیصد تک زیادہ رہی ہیں۔

ہمیشہ کی طرح یہ حکومتی ادارے تھے جنہوں نے اماراتی پیشہ ور افراد کو سب سے زیادہ تنخواہ فراہم کی۔ تاہم یہ کم عام ہوتا جارہا ہے۔

Source : Khaleej Times

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button